ایران میں حکومت مخالف تحریک شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور اس نے آپ ملک کے سو سے زائد شہروں و قصبات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے ،ایک خبر کے مطابق کئی شہریوں میں رات بھر مظاہرے ہوئے
گزشتہ 12 روز سے جاری مظاہروں کے درمیان حکومت نے انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر دی ہے۔ 2000 سے زائد گرفتاریوں اور درجنوں ہلاکتوں کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا حکومت جبر کے بارے میں حقیقت کو چھپا رہی ہے۔ تہران سے مغربی صوبوں تک پھیلا یہ ‘ڈیجیٹل بلیک آؤٹ’ محض ایک تکنیکی اقدام نہیں ہے بلکہ اسے حکومت کی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔حالات اس وقت بدلے جب معاشی نعروں کی بجائے سیاسی نعرے سنائی دینے لگے، اقتدار کی تبدیلی، آزادی اور آمریت کے خلاف کھلی آوازیں اٹھنے لگیں۔
مغربی میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے جبکہ ایران کے چیف جسٹس اور سپریم لیڈر خامنہ سی نے مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی ہدایت دی ہے اسی دوران میڈیا کے دعوے کے مطابق اب تک کئی درجن مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں ـ مظاہروں کے دوران سیکورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، جمعرات کو ایران کے کرد علاقے کے چاروں صوبوں: کردستان، مغربی آذربائیجان، کرمانشاہ اور ایلام کے 50 سے زیادہ چھوٹے اور بڑے شہروں میں بازار اور دکانیں بند تھیں۔ اسے ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے ساتھ یکجہتی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ایڈوائزری جاری کی ہے۔برطانوی ارب پتی اور کاروباری شخصیت رچرڈ برانسن نے گزشتہ چند دنوں سے ایران میں پھیلنے والی "عوامی مظاہروں کی لہر” پر عالمی توجہ کی اپیل کی ہے۔8 جنوری بروز جمعرات کرمانشاہ کے گولہ بلیوارڈ پر مظاہرین کو گرفتار کرنے والی سادہ لباس فورسز کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں۔ان تصاویر میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔

ایران میں آج مظاہروں کا بارہواں دن ہے۔ یہ مظاہرے تہران میں تجارتی ہڑتال سے شروع ہوئے اور تیزی سے دوسرے شہروں میں پھیل گئے۔ایران میں ملک گیر مظاہروں کے ردعمل میں جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، "ایران کے عوام کئی دنوں سے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ انہیں پرامن طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق ہے۔ اس لیے میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشا استعمال کی مذمت کرتا ہوں”۔
جنوب مغربی ایران کے صوبہ خوزستان کے آبادان سے بی بی سی فارسی کی حاصل کردہ تصاویر میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کو غروب آفتاب کے وقت دکھایا گیا ہے۔ملک کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ خدمات یا تو درہم برہم ہیں یا سست رفتاری کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
دریں جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی کی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو کو لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس نے لوگوں سے سڑکوں پر نکلنے اور متحد ہونے کی اپیل کی۔ یہ 2022 کے احتجاج سے ایک اہم فرق ہے، جہاں سماجی اصلاحات پر توجہ دی گئی تھی۔ اب حکومت کی تبدیلی کی کھلم کھلا بات ہو رہی ہے جس سے حکومتی خدشات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سب کو لے کر ایران امریکہ ایک دوسرے کو دھمکی دے رہے ہیں اور شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ـ








