ایران نے مسلمان ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ آپریشن روم بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ایک بیان میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ کسی عملی اقدام کے بغیر صرف تقاریر پر مشتمل اجلاسوں سے اسرائیلی حکومت کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک اسرائیل کی جنونی حکومت کے خلاف ایک مشترکہ آپریشن روم بنائیں، یہ فیصلہ صیہونی حکومت کے سرپرستوں کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہوگا۔
علی لاریجانی نے کہا کہ مسلمان ممالک نے فلسطین کے مظلوموں کے لیے کچھ نہیں کیا تو کم از کم خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ہی کوئی فیصلہ کرلیں
دوسری طرف عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سلامتی کونسل کو غزہ میں بین الاقوامی محافظ فورس کی تعیناتی سمیت عملی اقدامات کرنے چاہئیں، سلامتی کونسل کو اسرائیل پر ذمے داری عائد کرنی چاہیےوزیرِ خارجہ نے کہا کہ حملہ خود مختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیل کا جنگ بندی کوششوں میں مصروف خود مختار ملک پر حملہ بلاجواز و قابلِ مذمت ہے، یہ اسرائیل کے اس رویے کو عیاں کرتا ہے جو عالمی قوانین و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتاوزیرِ خارجہ نے کہا کہ عرب اسلامی ٹاسک فورس بنائی جائے جو اسرائیلی عزائم کی نگرانی کرے اور مربوط اقدامات کرے، او آئی سی کی اپیل کے مطابق اسرائیل کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی کوشش کی جائےانہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف مزید تعزیری اقدامات پر غور کیا جائے، سلامتی کونسل اسرائیل سے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرے، سلامتی کونسل اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ بھی کرے، تمام متاثرہ شہریوں تک بلا روک ٹوک اور محفوظ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطر پر غیر قانونی اور بلاجواز حملے کی مذمت کرتا ہے، اسرائیلی حملہ یو این چارٹر، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے









