"ہمارے پاس دو راستے تھے، یا امریکی تجویز قبول کرتے یا تنہا ہو جاتے ،ایران سے تعلقات حترام ہر مبنی"
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ لبنان کا پیغام بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ ایران کو لبنانی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔
العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عون نے انکشاف کیا کہ انھوں نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل علی لاریجانی کو یہ بتایا کہ ایران اور لبنان کے تعلقات "احترام پر مبنی ہیں”۔ انھوں نے مزید کہا "ایران ایک دوست ملک ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہماری خود مختاری محفوظ رہے… ہمارا پیغام واضح ہے کہ ایران ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے”۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے اسلحے کا معاملہ "لبنانی فیصلہ ہے اور اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں”۔لاریجانی نے گزشتہ ہفتے بیروت کا دورہ کیا تھا۔
لبنانی صدر کے مطابق شام و لبنان کے لیے امریکی ایلچی ٹوم براک کی پیش کردہ دستاویز میں "اسرائیلی انخلا اور لبنان کی معیشت کو سہارا دینے” کی تجاویز شامل تھیں۔ انھوں نے واضح کیا "لبنان کے پاس دو راستے تھے، یا تو امریکی کاغذ پر اتفاق کرے یا تنہائی میں چلا جائے”۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا "ہمیں اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کسی قسم کی دھمکی موصول نہیں ہوئی”۔ عون کے مطابق "ہم اس وقت انتظار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن اسرائیل کی منظوری کے ساتھ ٹوم براک کی تجویز سامنے لائے”۔انھوں نے زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح "ملک کا امن و استحکام” ہے۔ عون نے کہا "ہم اپنی قوم کو کسی اندرونی یا بیرونی تنازع میں دھکیلنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہمیں تھکا چکا ہے”۔ صدر نے کہا "شیعہ برادری ہمارے ملک کا ایک بنیادی اور فعال جزو ہے… کسی بھی فرقے کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، اور میں اپنے اس بیان کی ذمہ داری لیتا ہوں”۔
عون نے یہ بھی کہا کہ وہ "ہر اس فریق کا خیرمقدم کرتے ہیں جو لبنان کی مدد کرنا چاہے، بشرطیکہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے”۔ انھوں نے "سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی مدد پر شکریہ” ادا کیا اور کہا کہ وہ "سعودی عرب کی سرپرستی میں شام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور سرحدی تعین کے خواہاں ہیں”۔ ان کے مطابق "سعودی نے لبنان میں صدارتی خلا ختم کرنے میں کردار ادا کیا”۔فلسطینی اور اسرائیلی معاملے پر عون نے کہا کہ لبنان نے "ابھی تک اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت کا دروازہ نہیں کھولا”۔ لبنانی صدر نے فلسطینیوں کی آباد کاری کے معاملے پر "سختی سے انکار” کیا۔ فلسطینی کیمپوں کے اسلحے کے بارے میں عون نے کہا "ان کیمپوں سے اسلحہ ہٹانے کا فیصلہ فلسطینی اتھارٹی نے کر لیا تھا، لیکن ایران اور اسرائیل کی جنگ اور فلسطینی حالات نے اس عمل میں تاخیر پیدا کی”۔








