ایک آمرانہ نظام کیسے مرتا ہے؟ جیسا کہ ارنسٹ ہیمنگ وے نے کہا تھا ’آہستہ آہستہ۔۔۔ اور پھر اچانک۔‘
ایران میں مظاہرین اور بیرون ملک ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں اسلامی نظام آخری مرحلے میں ہے۔ لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اگر یہ کمزور ہو رہا ہے تو ابھی آہستہ آہستہ مرحلے میں ہے۔حالیہ دو ہفتوں کے احتجاج نظام کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ایرانی عوام کا غصہ اور مایوسی پہلے بھی سڑکوں پر نظر آ چکی ہے، لیکن حالیہ احتجاج پچھلے دو سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر لگائے گئے فوجی اور اقتصادی دھچکوں کے بعد سامنے آیا ہے۔اس دوران حکومتی فورسز نے شہریوں پر طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے مظاہرے، جیسا کہ ظاہر ہے، ختم ہو گئے ہیں۔
اگرچہ ایرانی نظام شدید دباؤ میں ہے، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔
دریں اثنا ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 279 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ ہیں۔ایرانی سرکاری براڈکاسٹر آئی آر ائی بی کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانی عوامی سکیورٹی پولیس کے چیف فراجا نے 279 ’شرپسندوں‘ کی گرفتاری کا اعلان کیا۔حالیہ ہفتوں کے مظاہروں کے دوران، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور مظاہرین کو ’شرپسند‘ قرار دیا










