ایران نے دھمکی دی ہے کہ اس پر حملہ کیا گیا تو وہ ڈیاگو گارشیا کے مشترکہ برطانوی اڈے پر حملہ کر دے گا۔ یہ بحر ہند میں اسی نام کے ایک جزیرے پر واقع ہے اور اس کا تعلق برطانوی وزارت دفاع سے ہے ۔ اسے امریکی بحریہ کے لیے لیز پر دیا گیا ہے۔امریکی فوج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے B-2 سٹیلتھ بمبار طیاروں کو، جو جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کو ڈیاگو گارشیا اڈے پر منتقل کر دیا ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں پیدا ہوئی ہیں کہ انہیں ایران کے خلاف براہ راست فوجی حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے تجزیہ کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن نے کم از کم 4 بمبار طیاروں کو اڈے پر منتقل کیا ہے۔ یہ اڈا ایران کی حد سے بہت دور ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس اپنی سرزمین سے اس طرح کے حملے کے لیے کافی ہتھیار ہیں۔ جیسا کہ اس کے پاس میزائل ’’ خرمشھر‘‘ ہے جس کی رینج درمیانی ہے۔ اسی طرح خودکش ڈرون ’’ شاھد 136 بی‘‘ ہے جس کی رینج 4000 کلومیٹر تک ہے۔ایران کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو بتایا کہ تہران کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے جواب میں بحر ہند میں واقع اڈے کو نشانہ بنائے گا۔ اس اہلکار نےمزید کہا کہ اگر خطے میں کسی بھی اڈے سے یا ایرانی میزائلوں کی حدود میں ایران پر حملہ کیا جاتا ہے تو برطانوی یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے میں کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب وقت آئے گا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ امریکی، برطانوی یا ترک فوجی ہیں۔ اگر امریکی آپ کے اڈے کو استعمال کریں گے تو آپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے نام ایک خط میں دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر دستخط نہیں کیے تو اس کے خلاف ’برے اقدامات‘ کیے جائیں گے۔