دوٹوک: قاسم سید
ایران میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اور جو کچھ باہر آرہا ہے وہ یا تو ویسٹرن میڈیا کا بیانیہ ہے جس میں ‘نئے انقلاب’ کی نوید سنائی جارہی ہے یاپھر ایران کے سرکاری بیان جہاں سب کچھ ‘چنگاسی’ ہے حقیقت ان دونوں کے درمیان گم ہے
ایران میں حالیہ شورش کو محض ایک وقتی ہنگامہ، یا کسی بیرونی سازش کا شاخسانہ قرار دینا سچائی سے فرار کے مترادف ہوگا۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا، بلکہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی معاشی گھٹن، سماجی بے چینی اور سیاسی جمود کا وہ لمحہ ہے جہاں عوامی صبر کی حد ٹوٹ جاتی ہے۔ ریال کی گرتی ہوئی قدر، مسلسل مہنگائی، روزگار کے مواقع کی کمی اور ریاستی ترجیحات کا عام آدمی کی زندگی سے کٹ جانا یہ سب عوامل کسی خفیہ یا بیرونی ہاتھ کے محتاج نہیں ہوتے، یہ خود بولتے ہیں، اور جب بولتے ہیں تو سڑکیں آباد ہوتی ہیں۔
یہ احتجاج اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں صرف شہری متوسط طبقہ یا طلبہ نہیں، بلکہ وہ سماجی پرتیں بھی شامل ہیں جو عموماً ریاستی بیانیے کے ساتھ خاموشی سے جڑی رہتی تھیں۔ چھوٹے تاجر، مزدور، نچلا متوسط طبقہ—یعنی وہ لوگ جن کے پاس نہ انقلاب کی رومانویت ہے، نہ جلاوطنی (سابق شاہ کے باقیات ) کی آسائش۔ ان کا احتجاج نظریاتی کم اور وجودی زیادہ ہے؛ وہ نظام کی نفی کسی نظریہ یا تبدیلی کی خواہش کے تحت نہیں، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کی مشکلات کے سبب کر رہے ہیں۔ یہی بات اس تحریک کو محض جذباتی نہیں، بلکہ خطرناک حد تک سنجیدہ بناتی ہے۔
ریاست کا ردِعمل بھی اسی سنجیدگی کی علامت ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، سخت سیکورٹی کریک ڈاؤن، اور احتجاج کو فوراً “بیرونی دشمنوں” سے جوڑ دینا اس خوف کی نشانیاں ہیں کہ مسئلہ محض نظم و ضبط کا نہیں رہا، بلکہ اعتماد کے بحران میں بدل چکا ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم نکتہ نظرانداز نہیں ہونا چاہیے: بیرونی قوتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں،جس میں امریکہ اور اسرائیل کا نام کیا جاسکتا ہے وہ ماضی قریب میں ایسی کئی ناکام کوششیں کر چکے ہیں مگر یہ کہنا کہ وہی اس کی خالق ہیں، زمینی حقائق کی توہین ہے۔ امریکہ، اسرائیل یا جلاوطن اپوزیشن کا کردار موقع پرستانہ و خودغرضانہ ضرور ہے، مگراصل محرک نہیں۔ آگ باہر سے نہیں -لگی، ہوا باہر سے مل رہی ہے۔اس پر پٹرول ضرور چھڑکا جارہا ہے
اسی تناظر میں تختہ پلٹ کی بحث کو بھی جذبات کے بجائے سسٹم کی ہیئت کی کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ ایرانی نظام کی اصل طاقت اس کی سیکورٹی مشینری اور ادارہ جاتی تسلسل میں ہے۔ جب تک انقلابی گارڈز اور ریاستی اداروں کے اندر کوئی واضح دراڑ نہیں پڑتی، محض عوامی غصہ اگر وہ شدید ہ بھی ہو تو بھی موجودہ نظام کو فوری طور پر گرا نہیں سکتا۔ تاحال ایسی کوئی علامت واضح نہیں کہ طاقت کے مراکز تقسیم ہو چکے ہوں۔ احتجاج سڑکوں پر ہے، آتشزنی ہورہی ہے مگر اقتدار پر خامنہ ای کی گرفت بدستور مستحکم ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ احتجاج کے پاس کوئی واضح، متفقہ اور اندرونِ ملک قابلِ قبول متبادل قیادت موجود نہیں۔ رضا پہلوی جیسے نام ضرور زیرِ بحث آ رہے ہیں، مگر یہ حمایت زیادہ تر علامتی اور بیرونِ ملک مرکوز ہے۔ ایران کے اندر نہ شاہی نظام پر اتفاق ہے، نہ کسی نئی جمہوری ساخت پر۔ یہ خلا فوری انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ غصہ حکومت کو ہلا تو سکتا ہے، مگر متبادل کے بغیر اسے بدل نہیں سکتا۔
اس سب کے باوجود یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ نظام محفوظ ہے اور طوفان گزر جائے گا۔ اصل خطرہ فوری تختہ پلٹ نہیں، مگر یہ موجودہ قیادت کو عوام کی حقیقی مشکلات اور مسائل کا ادراک تو کرنا ہوگا محض مرگ بر امریکہ اور مدھم بر اسرائیل کے نعروں سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا ہے ،اقتصادی پابندیوں نے عوام کا دیوالیہ نکال دیا پھر بھی وہ مستقل عزم کے ساتھ قیادت و حکومت کے ساتھ کھڑے رہے اور چیلنج کا مقابلہ کیا ۔ مسلسل معاشی زوال، نوجوان نسل کی بیگانگی، اور ریاستی بیانیے کی کم ہوتی اخلاقی ساکھ یہ سب وہ عوامل ہیں جو نظام کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قیادت اصلاح اور سختی کے بیچ معلق دکھائی دیتی ہے، اور یہی تذبذب آنے والے وقت کی سمت متعین کرے گا۔
اگر اس پورے منظرنامے کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے: ایران اس وقت انقلاب کے دہانے پر نہیں، مگر معمول کی سیاست کے دور سے نکل چکا ہے۔ یہ ایک ایسا عبوری لمحہ ہے جہاں یا تو نظام خود کو حقیقت کے مطابق ڈھالے گا، یا پھر بحران وقفے وقفے سے زیادہ شدت کے ساتھ لوٹتا رہے گا۔ پروپیگنڈہ دونوں طرف ہے، مگر سچ یہ ہے کہ یہ شورش باہر سے مسلط نہیں، اندر سے اٹھی ہے—اور یہی بات اسے نظرانداز کرنے کے قابل نہیں رہنے دیتی۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے منظرعام پر آکر ریاست کے عزائم کو اعتماد ویقین کے ساتھ واضح کردیا ،ان کے تیوروں میں تیکھاپن کم نہیں ہوا ،سرکار مظاہرین کے مسائل سے آگاہ ہے ،ان سے بات کے حق میں ہے وہیں ٹرمپ اس آگ کو بھڑکائے رکھنا چاہتے ہیں
ان کی دھمکیوں کی حدت اور شدت بڑھتی جارہی ہے ،یہ اعصابی جنگ کا مرحلہ کس موڑ پر ختم ہو گا کہنا مشکل ہے ،ایران میں تختہ پلٹ اس کی پرانی آرزو ہے ،کئی کوششیں کرچکا ہے وہ جانتا ہے کہ انقلاب کی جڑیں بہت گہری ہیں ـ,البتہ انہیں کمزور کرنے کے لیے وقفہ وقفہ سے ہلارہا ہے ،بیرونی سازشیں اسی وقت پاؤں پھیلاتی ہیں جب اندر سے سپورٹ ہو ـ فی الوقت معاشی بحران نے عوام کو ہلاکر رکھ دیا اس کا علاج ‘شیطان بزدگ”کو محض مورد الزام ٹھہرا نے سے نہیں بلکہ عوام کے زخموں پر مرہم سے نکلے گا، یہ شورش ایرانی رجیم کے لیے ایک الارم ہےـ امید ہے کہ وہ موجودہ بحران سے نکل آئے گی لیکن اسے عوام کے حقیقی مسائل کو ہر حالت میں حل کرنا ہوگا











