تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران ہوئی وسیع تباہی اور ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے جاری دورے کے دوران فلسطینیوں کے حقوق کا مسئلہ اٹھائیں۔ واضح رہے کہ پی ایم مودی اسرائیل کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔
عراقچی نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران "نسل کش حکومت” کے ساتھ منسلک ہونے کو مناسب نہیں سمجھتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ایم مودی اسرائیل دورے کے دوران فلسطینیوں اور ان کے حق خود ارادیت کے سوال پر بھی بات کریں گے۔
انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں اراغچی نے کہا کہ "بدقسمتی سے وہ اسرائیل ہی ہے جس نے پورے غزہ کو تباہ کر دیا۔ 75 ہزار لوگ مارے گئے، اور یہ کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جس کی تصدیق تقریباً تمام بین الاقوامی تنظیموں نے کی ہے جو غزہ کے مسئلے سے نمٹ رہی ہیں۔ ستر ہزار افراد کا قتل، یہ ایک نسل کشی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ اسی طرح جاری رہے۔ میرا اپنے ہم منصب وزیر خارجہ جے شنکر سے اچھا رابطہ ہے، اور ہم ہمیشہ اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں، اور ہمارے بہت اچھے ذاتی تعلقات ہیں۔”
واضح رہے کہ پی ایم مودی کو باوقار اعزاز دیا گیا ہے ـ اسرائیل کی پارلیمنٹ کا "اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل” وہاں کا نہایت باوقار اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان غیر ملکی شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہو۔ وزیرِ اعظم Narendra Modi کے دورِ حکومت میں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات صرف دفاعی معاہدوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔






