ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکا کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان سے اب ’پسِ پردہ کہانی واضح ہو گئی ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ اس واقعے کا پس منظر واضح ہو گیا۔ ہم احتجاج کرنے والے تاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کے مترادف ہو گی۔‘
لاریجانی نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ نے ایک مہم جوئی شروع کی ہے، اپنے فوجیوں کا خیال رکھیں۔‘یاد رہے کہ اس سے قبل ایران میں مظاہروں کے معاملے پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر ایرانی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں نہ روکی گئیں اور ’مظاہرین کو قتل‘ کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو امریکا اُن (مظاہرین) کی ’مدد کے لیے آگے آئے گا۔‘
•اب تک کیا کیا یوا؟
**ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے
**مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں
**ایران میں آزاد میڈیا کی عدم موجودگی اور میڈیا قدغنوں کے باعث بی بی سی آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے تاہم ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ اور ہیومن رائٹس گروپ ’ ھنگاو‘ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ملک کے جنوب مغربی شہر ’لردگان‘ میں دو افراد، شہر ’ازنا‘ میں تین جبکہ شہر ’ کوهدشت‘ میں ایک شخص مظاہروں کے دوران ہلاک ہوا ہے
**ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار بھی ’کوہدشت‘ میں مارا گیا ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار اب تک زخمی ہو چکے ہیں
**جمعرات کو سوشل میڈیا پر چند ایسی ویڈیوز بھی پوسٹ کی گئی جن میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ ہنگاموں کے دوران چند گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا
*غیرمصدقہ ویڈیوز میں مظاہرین ایران میں رہبر اعلیٰ کی حکمرانی کے خاتمہ اورچند ملک میں ’بادشاہت‘کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں
*”ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ کو سُنے گی تاہم ملک کے اٹارنی جنرل محمد موحدیآزاد نے خبردار کیا ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا سامنا ’فیصلہ کن ردعمل‘ سے دیا جائے گا






