ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بتدریج بڑھتی چلی جارہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ کا فاتح کون کب اور کیسے ہوگا؟
ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہیں جبکہ ایرن نے خلاف توقع حملوں کا بھرپور جواب دے کر دنیا کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے کہ اب کون کس کو ہرائے گا؟ ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر عادل نجم نے جنگ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ
اس وقت جو دنیا بھر کے میڈیا سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان پر مکمل یقین نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ صدر ٹرمپ کے کیا کہ پہلے کہا کچھ اور اگلے دن کیا کچھ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ ایران ان دونوں ممالک کا مقابلہ کب تک کرپائے گا یہ بھی علم نہیں کہ ایران کے پاس میزائلوں کی اتنی تعداد کہاں سے آگئی؟ ان کا کہنا تھا کہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ روس ہو یا چین وہ ایران کی پس پردہ کسی نہ کسی طرح مدد ضرور کررہے ہیں۔
جنگ جیتنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس جنگ میں نیتن یاہو جیت گیا ہے کیونکہ جو کام وہ 30 سال سے کرنا چاہ رہا تھا وہ کامیابی اسے مل گئی۔ تاہم دوسری جانب ایران یہ جنگ جیت نہیں سکتا لیکن لگ یہ رہا ہے کہ وہ یہ جنگ ہار بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کی بقا کی جنگ ہے جسے وہ آخری سانس تک لڑے گا۔کی صورتحال بتاتے ہوئیے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ان کے غرور اور نیتن یاہو کے مشورے نے تنہا کردیا ہے اب ان کے پاس جنگ سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں، اس بات تصدیق اس بیان سے ہوجاتی ہے کہ ہم تو رجیم چینج چاہتے ہی نہیں تھے، کیونکہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ فلاں کام نہیں کرسکتا تو ہدف ہی تبدیل کردیتا ہے۔
اب تو امریکا میں عوامی حلقوں میں بھی یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ہمارے فوجی کس کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں یہ تو ہماری جنگ ہے ہی نہیں۔



