کیا ایران جنگ سے دو دن پہلے وزیر اعظم مودی کا دورہ اسرائیل بھارت کو ایسا دھچکا لگا جس سے وہ پاکستان سے بھی پیچھے چلا گیا؟کم از کم یہی الزام کانگریس پارٹی نے تو یہی الزام لگایا ہے –
ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی خبروں کے بعد کانگریس پارٹی نے پی ایم مودی اور بی جے پی حکومت کی خارجہ پالیسی پر بڑا حملہ کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس درست ہیں تو ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا اوراسے نظر انداز کرنا ہے کانگریس نے اس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں ’خود ساختہ عالمی رہنما‘ قرار دیا۔
کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی جے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بیان دیا۔ انہوں نے لکھا، "بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کی متعدد رپورٹس میں پاکستان کو ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان استعمال ہونے والے ثالثوں میں سے ایک کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو یہ بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اورخود ساختہ عالمی رہنما اس کے لیے پوری طرح ذمہ دار ہیں
**فنانشل ٹائمز کا دعوی
کانگریس نے یہ حملہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد کیا تھا کہ پاکستان مغربی ایشیا میں جنگ کے خاتمے کے لیے خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ پاکستان نے اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے جگہ کی پیشکش بھی کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اس رپورٹ پر کوئی ٹھوس تبصرہ نہیں کیا، لیکن کہا کہ "جب تک وائٹ ہاؤس کوئی سرکاری اعلان نہیں کرتا، قیاس آرائیوں کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔” ایران نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان اور ترکی جیسے ممالک ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔
** “اسرائیل دورے سے نقصان”
کانگریس نے فروری 2026 میں وزیر اعظم مودی کے اسرائیل کے دورے پر تنقید کی تھی۔ یہ دورہ 25 اور 26 فروری کو ہوا تھا، اس سے صرف دو دن پہلے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔
انہوں نے کہا، "مودی کا ناجائز دورہ اسرائیل ہماری سیاسی تاریخ میں ایک تباہ کن فیصلہ ثابت ہوگا۔ اس نے ہمیں اس مقام سے پیچھے دھکیل دیا ہے جہاں بھارت کو ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا اور کرنا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم کی ‘گلے لگانے والی ڈپلومیسی’ پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہے۔ اب ملک اس کی قیمت چکا رہا ہے۔”



