تجزیہ: انتھونی زرچر
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہونے کے تین ہفتے بعد تنازعہ متضاد بیانات اور غیر یقینی صورتحال کی نہج پر پہنچ گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اکثر بیانات زمینی حقائق سے متصادم نظر آتے ہیں۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ جنگ ’کافی حد تک مکمل‘ ہو چکی ہے، لیکن امریکی زمینی افواج بشمول میرین یونٹ خطے میں پہنچ رہی ہیں۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’وہ اس جنگ کو سمیٹ‘ رہے ہیں، لیکن ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی بمباری اور میزائل حملے مسلسل جاری ہیں۔
ایران کی فوج کو ’ختم‘ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے ڈرون اور میزائل اب بھی خطے میں اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اہداف ڈیاگو گارشیا میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ اڈے تک پھیل چکے ہیں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
لیکن محض ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف مکمل کرنے کے بہت قریب ہے۔
ایران سے متعلق اُن کے اہداف میں اس کی فوج اور دفاعی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور اس کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنانا تھا۔ ساتھ ہی اس کا مقصد امریکہ کے خلیج میں اتحادیوں کا تحفظ بھی تھا۔
اس میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا ہدف شامل نہیں تھا، جس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ذمے داری دیگر ممالک کی ہونی چاہیے جو خلیج سے تیل کی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں ایرانی رجیم کی تبدیلی کی بھی بات نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں صدر ٹرمپ بار بار اس بات پر اصرار کر رہے تھے۔
ٹرمپ کے جنگ سے متعلق تازہ اہداف میں یہ ممکن ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بغیر ہی اس جنگ سے نکل سکتا ہے۔ ایران کی تیل کی برآمدات اب بھی جاری ہیں اور آبنائے ہرمز پر کسی حد تک اس کا کنٹرول بھی برقرار ہے۔
صرف ایک ہفتہ قبل امریکی میڈیا نے بتایا تھا کہ تقریباً 2500 امریکی فوجی اور بحری اور جنگی جہاز جاپان سے مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیے گئے ہیں، اسی حجم کی ایک اور میرین فورس حال ہی میں کیلیفورنیا میں اپنے اڈے سے روانہ ہوئی ہے اور اپریل کے وسط میں اس کی آمد متوقع ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے۔ یہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا ٹرمینل ہے۔ ایسا کرنے سے ایرانی تیل کی ترسیل کو منقطع کیا جا سکتا ہے اوریہ انتہائی ضروری محصولات سے محروم ہو سکتا ہے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور امریکہ اپنے مطالبات منوا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ وہ ایران میں زمینی افواج نہیں بھیج رہے۔ لیکن اُنھوں نے مزید کہا کہ اگر میں نے بھیجنی بھی ہوتی تو کسی کو نہ بتایا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔
اس طرح کے اقدام کی دھمکی کے بعد سنیچر کو ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اگر جزیرہ خارگ پر کوئی بھی حملہ ہوا تو بحیرہ احمر بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گا۔ یہ سمندری راستہ بھی عالمی جہاز رانی کے لیے اہم ہے۔ ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ پورے خطے میں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا۔
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہنگامی فنڈنگ کے لیے کانگریس سے 200 ارب ڈالرز مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ’یہ جنگ کو سمیٹنے‘ کی نہیں بلکہ اس مزید طول دینے کی بات ہو رہی ہے۔ (بشکریہ بی بی سی)



