ایران کے ایک سینیئر ذمہ دار نے پیر کے روز انتباہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوبارہ چھڑنے کا خطرہ کسی بھی وقت موجود ہے۔ ایرانی ذمہ دار ماہ جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے بعد کی صورت حال پر بات کررہے تھے۔ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ان حالات میں ہمیں ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ہو گا۔۔ کیونکہ موجودہ حالات میں بھی ہمارا کوئی جنگ بندی معاہدہ بروئے کار نہیں ہے۔ البتہ کچھ دیر کے لیے جنگ رکی ہوئی ضرور ہے۔
یاد رہے ماہ جون میں اسرائیلی ریاست کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے دوران ایران کے ایک ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ جن میں اعلی فوجی کمانڈر اور اہم جوہری سائنسدان بھی شامل تھے۔اس مختصر مگر خوفناک جنگ کے دوران ایران کی جوہری ، فوجی اور انرجی تنصیبات کو بطور خاص شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ایران نے جوابا اسرائیلی فوجی تنصیبات کے علاوہ اہم تجارتی مراکز کو اپنے میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ۔ تل ابیب اور حیفا میں فوجی مراکز تک ایرانی بیلسٹک میزائل پہنچنے میں کامیاب رہے۔ تاہم اسرائیل کا جانی نقصان کم ہوا۔
البتہ جنگ کے دنوں میں اسرائیلی شہریوں سے لے کر اعلی حکومتی عہدے داروں کا محفوظ بنکروں میں پناہ لینے کا سلسلہ مسلسل جاری نظر آیا۔کیونکہ اسرائیل کا فضائی دفاع کا نظام ایران کے یکبارگی سے آنے والے بہت سے بیلیسٹک میزائلوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔
اس سے قبل اتوار کے روز سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ایک فوجی مشیر یحی رحیم صفوی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ایران کسی بھی بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اور بد ترین جنگی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری میں مصروف ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہم محض ایک جنگ بندی سے گذر رہے ہیں۔ ایک جنگ بندی معاہدے کے ساتھ نہیں ہیں۔ہمارا جنگ بندی کے سلسلے میں اسرائیل ہا امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی اس جنگ بندی کو جاری رکھنے کا کوئی میکانزم موجود ہے۔








