پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجہ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوگئے۔ حملہ شہر کے شہزاد ٹاؤن علاقے میں شیعہ مسلمانوں کے اس امام بارہ پم پر ہوا۔ جہاں کچھ میڈیا رپورٹس میں مرنے والوں کی تعداد 69 بتائی گئی ہے، پاکستان کے معروف اور معتبر اخبار، ڈان نے اس رپورٹ کے لکھے جانے تک مرنے والوں کی تعداد 31 بتائی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق دھماکہ نماز جمعہ کے دوران ہوا جس سے امام بارگاہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ جائے وقوعہ پر خون آلود لاشیں، ٹوٹے ہوئے شیشے اور ملبہ بکھرا پڑا تھا۔ کئی زخمی امام بارگاہ کے باغ میں پڑے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
یہ حملہ ازبک صدر شوکت مرزیوف کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ہوا۔ یہ گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کے G-11 علاقے میں ایک عدالت کے باہر ایک خودکش بم دھماکے کے تین ماہ سے بھی کم وقت کے بعد ہوا ہے جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اطراف میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور کی لاش کے اعضا امام بارگاہ کے اندر موجود پائے گئے








