بنیامن نتن یاہو جو سب سے زیادہ عرصے تک اسرائیل کے وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور اب تک ملک کی سیاست میں ایک سب سے نمایاں اور غالب طاقت ہیں غزہ جنگ کے بارے میں اپنے اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹے جو ان کے خیال میں بنیادی سچائی ہے۔حماس نے 7 اکتوبر کو ایک ہی دن میں اسرائیل کو بدترین شکست دی اور یہ خوف کہ وہ سرحدیں توڑ سکتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہلاک اور یرغمال بنا سکتا ہے، اسرائیل میں اب بھی بہت موجود ہے۔
تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی نتن یاہو کے خلاف احتحاج کر رہے ہیں، ان سب نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں قتل ہونے والے بچوں کے نام درج ہیں۔ان میں سے بہت سی تصاویر ایسی ہیں جن پر ان بچوں کی مسکراتی ہوئی تصویر ہے اس دن کی جب وہ پیدا ہوئے تھے اور اس دن کی بھی جب وہ مارے گئے۔ جن بچوں کی تصاویر نہیں تھی ان کی تصویر کی جگہ ڈرائنگ میں ایک پھول بنایا گیا تھا۔
یہ خاموش احتجاج جو غزہ میں ہونے والے قتل عام کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں دن بدن بڑھتے جا رہے یں۔ کچھ احتجاج ان ہوائی اڈوں کے باہر بھی ہو رہے ہیں جہاں وہ ان پائلٹس کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو غزہ میں بمباری کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ لیکن یہ احتجاج اب بھی اکثریت کا موقف نہیں اقلیتی حیثیت رکھتے ہیں۔
تیمینہ پرٹز احتجاج کی منتظمین میں شامل ہیں۔ن کا کہنا ہے کہ احتجاج کا آغاز 18 مارچ کے بعد ہوا تھا جب اسرائیل نے حماس کے ساتھ سیز فائر کو ختم کیا تھا اور پھر سے جنگ شروع کی تھی۔وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں پتہ چلا کہ فقط اسی ایک ہی ہفتے کے دوران کتنے بچے ہلاک ہوئے، میں نے اس صورتحال میں جب لوگوں کی نسل کشی ہو رہی تھی لوگ بھوک کا شکار تھے خاموش رہنے سے انکار کیا۔رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہودی اسرائیلیوں کی ایک بڑی اکثریت غزہ میں فلسطینیوں کے مصائب سے پریشان نہیں ہے
نتن یاہو اور ان کے وزرا اور ترجمان اس بات پر مصر ہیں کہ حماس، اقوام متحدہ ، عینی شاہدین، امدادی کارکنان اور غیر ملکی حکومتیں غزہ میں انسانی بحران کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔اسرائیلی ابھی ٹراما کے بعد میں دور میں نہیں بلکہ اب بی صدمے میں ہیں۔ یرغمالی سرنگوں کے اندر مر رہے ہیں۔ لوگ حکومت سے بھیک مانگ رہی ہے کہ وہ ایک ایسا طریقہ تلاش کریں جس سے یرغمالیوں کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے۔جب تک یرغمالی گھر نہیں آجاتے تب تک شاید کسی کے زخم نہ بھریں۔خیال یہ کیا جاتا ہے کہ اب بھی 20 کے قریب یرغمالی اب بھی غزہ میں ہیں۔کسی بھی سیاسی نظریے کے حامی تمام اسرائیلی حال ہی میں غزہ میں موجود فاقہ زدہ نوجوان یرغمالیوں کی ویڈیوز دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔نتن یاہو کی سیاسی بنیاد اسرائیل کے دائیں بازو پر ہے۔ اور یہ ان کے اس اصرار کو تسلیم کرتی ہے کہ حماس پر مکمل فتح تک جنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ لیکن وہ اب بھی حزب اختلاف کی جماعتوں سے پیچھے ہیں۔انھوں نے ایسے شواہد کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر رہنے کے لیے جنگ کو طول دے رہے ہیں۔بدعنوانی کے الزامات پر ان کا طویل عرصے سے چل رہا مقدمہ اتنا سنگین ہے کہ ممکنہ طور پر جیل کی سزا پانے کے امکانات بھی ہیں۔
ان کے اتحاد میں شامل انتہا پسند قوم پرستوں، وزیر خزانہ بیزایل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گویر نے دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے حماس کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ کیا تو وہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔لیکن دوسری جانب یرغمالیوں کے اہل خانہ نے نتن یاہو سے اپیل کی ہے کہ یرغمالیوں کی موت سے پہلے حماس کے ساتھ معاہدہ کریں۔نتن یاہو کے منصوبوں کی آئی ڈی ایف کی موجودہ قیادت نے بھی مذمت کی۔رپورٹس کے مطابق انھوں نے کابینہ کو بتایا کہ اس سے یرغمالیوں کو خطرہ ہوگا اور انسانی بحران مزید خراب ہوگا۔اس جنگ نے سیکولر آبادی اور مذہبی دائیں بازو کے درمیان اسرائیل کی سب سے تلخ تقسیم کو بھی وسیع کر دیا ہے۔ تل ابیب میں سیکولر اسرائیلیوں اور یروشلم میں ان کے مذہبی ہم وطنوں کے مظاہروں کے درمیان چپقلش دو مختلف ممالک کے درمیان سفر کرنے کی طرح محسوس ہوسکتی ہے۔سموٹریچ نے کہا ہے کہ یہودی ریاست دریائے اردن کے دونوں کناروں پر ہونی چاہیے، جو اردن پر قبضہ کرے اور شام کے دارالحکومت دمشق تک پھیل جائے۔( بشکریہ بی بی سی اردو )







