غزہ کی جنگ اپنے تیسرے سال میں داخل ہونے کو ہے، اس دوران اسرائیلی فوج کو گولہ بارود اور پرزہ جات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں فوج کی طویل مدتی جنگی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسرائیلی اخبار "اسرائیل ہیوم” کے مطابق یہ صورت حال بین الاقوامی اسلحہ برآمداتی پابندیوں اور مقامی پیداوار کی سست رفتاری کا نتیجہ ہے۔
اخبار نے بتایا کہ یہ معاملہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے حساس ترین رازوں میں سے ایک ہے۔ جنگ کی طویل مدت، یورپی ممالک کی پابندیاں اور نئی پیداوار لائنوں میں تاخیر نے مختلف شعبوں میں ہتھیاروں اور پرزوں کی شدید کمی پیدا کر دی ہے، جس سے نہ صرف فوری عسکری کارروائیوں بلکہ ہنگامی منصوبوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ کئی یونٹ بیک وقت اس کمی سے دوچار ہیں … کچھ کو اسلحے کی کمی، کچھ کو پرزہ جات کی اور اور کچھ کو دونوں کا سامنا ہے۔اسرائیلی وزارت دفاع اور فوج اس قلت پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر اب تک کامیابی محدود رہی ہے۔ اس کے باعث موجودہ اور آئندہ لڑائیوں میں شریک یونٹ مکمل طور پر لیس نہیں ہوں گے۔ اس صورتحال کے تین بڑے اسباب بیان کیے گئے:
• دو سال سے جاری شدید جنگ میں اصل منصوبے سے کہیں زیادہ مقدار میں گولہ بارود اور پرزہ جات کا استعمال۔
• مختلف ملکوں کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ و پرزہ جات کی فروخت پر پابندیاں۔
• متبادل پیداوار لائنیں قائم کرنے میں طویل وقت لگنا۔
اکتوبر 2023 سے جاری جنگ اور فلسطینی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کے بعد جرمنی نے جو امریکا کے بعد اسرائیل کا دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے، تل ابیب کو اسلحے کی فروخت معطل کر دی۔ جرمنی اسرائیل کو میرکافا ٹینکوں کے انجن اور گولے فراہم کرتا ہے
اس بڑھتی قلت کے جواب میں اسرائیلی وزارت دفاع نے “ذخیرہ جاتی انتظامیہ” قائم کی جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ستمبر کے وسط میں "سپر اسپارٹا” تقریر میں بیرونی انحصار ختم کرنے پر زور دیا۔ تاہم اگلے دن انھوں نے وضاحت دی کہ مقصد سلامتی کے میدان میں خود انحصاری ہے، لیکن اس بیان نے اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل مچا دی۔اخبار کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کی ذمے داری حکومت اور سیکیورٹی کابینہ پر ہے، لیکن نیتن یاہو نے تفصیلات کابینہ کو نہیں بتائیں۔ پارلیمانی کمیٹی کو اگرچہ معلومات دی گئیں مگر اس نے کوئی کارروائی نہیں کی، نہ نیتن یاہو یا وزیر دفاع کو طلب کیا۔








