خصوصی تجزیہ
شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اسے اکھاڑ پھینکنے والی بنگلہ دیش کی طلبہ تنظیموں اور جماعت اسلامی کے اتحاد کو انتخابات میں بڑا دھچکا لگا۔ طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی، جو تقریباً دو دہائیوں کی جلاوطنی کے بعد انتخابات سے عین قبل ملک واپس آئی، نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ جماعت اسلامی نے توقع سے بہت کم کامیابی حاصل کی۔ انتخابات سے پہلے، جماعت اسلامی نے بڑے اعتماد کا اظہار کیا تھا، اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ پارٹی آزادی کے بعد اپنی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نتائج کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی نے انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ نتائج سے مطمئن نہیں ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو کیا ہوا اور اس کی امیدوں پر کیوں پانی پھر گیا؟
•••نتائج مایوس کن کیوں رہے؟
انتخابی نتائج نے ظاہر کیا کہ بی این پی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اور اس کے 11 جماعتی اتحاد کو 77 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ہے۔ اکیلے جماعت کو 68-70 کے قریب سیٹیں جیتنے کا امکان ہے۔ یہ جماعت کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے، لیکن توقعات سے بہت کم ہے۔ پارٹی نے شکست تسلیم کر لی، لیکن جمعہ کو ایک بیان جاری کر کے انتخابی نتائج کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے انتظامیہ کے ایک حصے کی طرف سے ووٹوں کی گنتی میں دھوکہ دہی اور تعصب کا الزام لگایا۔

جماعت کہاں کمی واقع ہوئی؟
شیخ حسینہ حکومت کے خلاف تحریک کے بعد جماعت کو تنظیم سازی کا فائدہ ہوا۔ طارق رحمان کے انتخابات میں دیر سے آنے سے جماعت کو کچھ علاقوں میں حمایت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ تاہم، جیسے جیسے انتخابات میں شدت آئی، ووٹرز جماعت سے دور ہوتے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ نوجوان جنرل زیڈ ووٹرز، یا 2024 کی تحریک سے تعلق رکھنے والوں نے جماعت کی بجائے بی این پی کا انتخاب کیا۔ نوجوان جماعت کے بنیاد پرست اسلامی نظریات سے خوفزدہ تھے۔
جماعت کو امید تھی کہ خواتین ان کے پیچھے ریلی نکالیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہندو اور دیگر اقلیتی برادریاں بی این پی کے ساتھ وفادار رہیں۔ جماعت کی تاریخ میں 1971 کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینا اور البدر اور رزاقروں جیسے گروہوں کی حمایت کرنا شامل ہے۔
•••عوامی لیگ کے ووٹرز نے بی این پی کا ساتھ دیا۔
جماعت کو امید تھی کہ عوامی لیگ کے پرانے حامی اس کی طرف آئیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عوامی لیگ کے پرانے حامیوں نے جماعت کا نہیں بلکہ بی این پی کا ساتھ دیا۔
•••امریکی تنازعہ کے اثرات
انتخابات سے قبل واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں امریکی سفارت کاروں کے جماعت کے ساتھ رابطوں کا انکشاف ہوا تھا۔ بی این پی نے اسے امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدہ قرار دیا۔ اس نے جماعت کی شبیہ کو داغدار کیا اور اس بارے میں سوالات اٹھائے کہ آیا جماعت ملک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔
••پرانی تصویرانتہا پسندی کا خوف
جماعت کی بنیاد مولانا مودودی نے 1941 میں رکھی تھی۔ اس نے 1971 کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کی حمایت کی تھی اور اس پر ہندوؤں پر حملوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس نے ایک بنیاد پرست جماعت کے طور پر شہرت پیدا کی اور یہاں تک کہ اس پر پابندی لگا دی گئی۔ 2013 میں ہائی کورٹ نے اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔ حسینہ کی حکومت کے دوران کئی لیڈروں کو مجرم قرار دیا گیا یا پھانسی دی گئی۔ پارٹی نے خود کو ایک اعتدال پسند کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن عوامی شعور میں اس کی پرانی تصویر برقرار رہی۔ شریعت کے قانون، خواتین کے حقوق اور اس کے طلبہ ونگ کے تشدد کے بارے میں جماعت کے ماضی کے بیانات لوگوں کو آج بھی یاد ہیں۔
•••خواتین مخالف ہونے کا تاثر
جماعت کے امیر شفیق الرحمن کا الجزیرہ کو دیاگیا انٹرویو جس میں خواتین کی سربراہی سے متعلق متنازع بیان نے ملک کی 52فیصد خواتین ووٹرز میں الجھن پیدا کردہ وہیں کسی بھی خاتون کو ٹکٹ نہ دینا بھی ان کے خلاف چلاگیا -یہ فیصلہ ناقابل فہم رہا اوربی این پی نے اس کے خواتین مخالف ہونے کا پروپیگنڈہ کیا ،جس نے اسے بہت نقصان پہونچایا ۔
••• جماعت نے کیا کہا؟
تاہم انتخابی نتائج کے بعد جماعت نے شکست تسلیم کر لی لیکن نتائج پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے امیدوار کئی جگہوں پر مشکوک طریقوں سے ہارے، ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے، اور انتظامیہ نے ایک پارٹی کی حمایت کی۔ تاہم پارٹی نے امن کی اپیل کی اور کہا کہ وہ جمہوریت کا احترام کرے گی۔
یہ الیکشن جماعت کے لیے ایک تاریخی تھا، کیونکہ وہ اپوزیشن کی بڑی جماعت بن گئی تھی۔ اس نے پہلی بار ڈھاکہ میں سیٹیں جیتیں۔ تاہم، بی این پی کی بھاری اکثریت نے جماعت کو اقتدار سے دور رکھا۔ پارٹی کی سخت گیر امیج، دیرینہ تاریخ اور ووٹروں کا بی این پی کی طرف جھکاؤ اس کی بنیادی وجوہات تھیں۔ اب بنگلہ دیش میں طارق رحمان حکومت بنائیں گے اور جماعت حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی







