نئی دہلی 4 ۔اپریل :جمعیۃ علماء ہند نے اپنی اصولی پالیسی کی روشنی میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صدر جمعیۃ علماء آسام سے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ساتھ مبینہ اتحاد اور علانیہ حمایت کے سلسلے میں 24 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت طلب کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی جانب سے جاری کرہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ کے اکابر رحمہم اللہ نے آزادی کے فوری بعد مجلس عاملہ کے تاریخی اجلاس منعقدہ 17 ۔ 18 اگست 1951، زیر صدارت شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ، انتخابات اور ووٹ سے متعلق ایک واضح، اصولی اور غیر مبہم پالیسی منظور فرمائی تھی جس کی توثیق بعد کے متعدد اجلاسوں میں بھی کی جاتی رہی ہے۔ جمعیۃ نے اپنی پالیسی میں طے کیا تھا کہ جمعیۃ کے ارکان اور ذمہ داران کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کسی بھی فرقہ پرست جماعت سے کسی قسم کی وابستگی نہ رکھیں۔ اس کے برعکس انہیں صرف ایسی جماعتوں اور قوتوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی تھی جو قومی یکجہتی، آئینی اقدار، جمہوری اصولوں اور تکثیری معاشرتی ڈھانچے کی بقا کی حامی ہوں۔ اس کے برعکس حالیہ انتخابی مہم میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ایک فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد اور ہم نوائی کی ہے اور اس کی علانیہ حمایت حاصل کی ہے جو جمعیۃ علماء ہند کی پالیسی اور اس کے بنیادی اصولوں سے صریح انحراف ہے۔اس پس منظر میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنا تحریری جواب مرکزی دفتر کو ارسال کریں اور یہ واضح کریں کہ مذکورہ طرزِ عمل کن مقاصد، حالات اور بنیادوں پر اختیار کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر موصولہ جواب اطمینان بخش نہ ہوا تو تنظیمی ضابطے اور دستور کی روشنی میں مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے اکابر کے طے کردہ اصولی موقف، آئینی اقدار کے تحفظ اور فرقہ وارانہ سیاست کی مخالفت کے موقف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہے ۔سورس:پریس ریلیزز









