وپل امرت لال شاہ کی فلم The Kerala Story 2: Goes Beyond کا ٹیزر ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ جہاں لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سچے واقعات سے متاثر ہے وہیں معروف اداکارہ سعدیہ خطیب نے فلم پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی کہانی بار بار ایک خاص مذہب کو نشانہ بناتی ہے اور اسے معاشرے کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
سعدیہ خطیب نے انسٹاگرام پر ایک لمبی پوسٹ میں لکھا
"ایک مسلمان اور ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے وہ ایسی فلمیں دیکھ کر ذلت اور دکھ محسوس کرتی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ کہ لوگ اسے خاموشی سے قبول کر رہے ہیں۔ سنیما اور آگہی کے نام پر نفرت اور خوف کو احتیاط سے پیش کیا جا رہا ہے۔"

سعدیہ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا، "جب ایک پوری کمیونٹی کو بار بار دہشت گرد، ولن، یا ایسے لوگوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو نفرت کے لائق نہیں ہیں، تو اس کا اس کمیونٹی پر گہرا نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ اسے آہستہ آہستہ ایک نظام کے طور پر پھیلایا جا رہا ہے اور اسے معمول پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یہ سنیما نہیں ہے، یہ کنڈیشنگ ہے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان برپا ہے۔ یہ سنیما پر نہیں رکتا۔ یہ ہر جگہ ہے: اسکول کے کلاس رومز میں، دفاتر میں، سڑکوں پر۔” جب مسلمانوں کو شیطانیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، عام لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہ اسی نفرت کا اثر ہے، جسے وہ آرٹ کہتے ہیں"۔
سعدیہ کی یہ پوسٹ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔اور ہندتووادی ان پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں
آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے (،اہنی رائے لکھیں )








