تبصرہ: محمد سلمان دہلوی
یہ بات نہایت افسوس کا باعث ہے کہ ہماری جماعت کے مرکزی پروگرامز اس سال کئی مرتبہ صرف اس وجہ سے مؤخر یا ملتوی کیے گئے کہ مقررہ تاریخ کسی تہوار یا دیگر مصروفیات سے ٹکرا گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی جماعت، جس میں فقیہ وقت، مفکر ملت، خطیب العصر، وکلاء، ڈاکٹرز اور اہلِ دانش موجود ہوں، تاریخ طے کرتے وقت کلینڈر پر نظر ڈالنے کی بنیادی سی احتیاط بھی نہیں کر پاتی؟
یہ صورتحال محض اتفاق نہیں بلکہ ہمارے انتظامی نظام میں مشاورت کی کمزوری اور بروقت منصوبہ بندی کے فقدان کو عیاں کرتی ہے۔ کسی بھی بڑی جماعت کا وقار اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب اس کے پروگرامز طے شدہ ہوں، پیشگی سوچ بچار کے ساتھ اعلان کیے جائیں، اور بعد میں ردّ و بدل کی نوبت نہ آئے۔ بار بار کی تاخیر نہ صرف کارکنان میں بددلی پیدا کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتی ہے۔
قیادت کی اصل دور اندیشی یہ ہے کہ حالات کا اندازہ پہلے ہی لگا لیا جائے اور فیصلے ایسے ہوں کہ ان پر ڈٹا جا سکے۔ ورنہ یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ جو بات وقتی طور پر من میں آئی وہ کہہ دی گئی، اور پھر حالات کے دباؤ میں اسے بدلنا پڑا۔ یہ رویہ کسی بڑی جماعت کے شایانِ شان نہیں۔
ہماری گزارش یہ ہے کہ قیادت اپنی پالیسی اور پروگرام سازی میں ایک مستقل نظام بنائے۔ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو کلینڈر، اہم مواقع اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تاریخوں کی نشاندہی کرے تاکہ بعد میں بار بار تبدیلی کی نوبت نہ آئے۔ اسی میں جماعت کی عزت اور کارکنان کا اعتماد مضمر ہے۔
ادب کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنی تنظیمی کمزوریوں پر توجہ نہ دی تو ہماری طاقت انتشار میں بدل جائے گی۔








