نئی دہلی:خصوصی تجزیہ
وہ نظریاتی وفاداری کو ٹیکنوکریٹک انداز کے ساتھ جوڑتے تھے اور محض نعرے بازی کے بجائے طے شدہ حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے تھے۔
ایران کے سینئر سیاستدان اور سابق اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے، جس کے بعد ایران اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی ایک مضبوط اور تجربہ کار آواز سے محروم ہو گیا۔
لاریجانی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر اور قابلِ اعتماد ساتھی سمجھے جاتے تھے، وہ ایران کی سیکیورٹی پالیسی، ایٹمی مذاکرات اور خطے میں سفارتی حکمتِ عملی کے اہم معماروں میں شمار ہوتے تھے۔
•••انقلابی پس منظر سے اقتدار کے ایوانوں تک
علی لاریجانی 1958ء میں عراق کے مذہبی شہر نجف میں پیدا ہوئے، ایرانی انقلاب 1979ء کے بعد وہ تیزی سے ابھر کر سامنے آئے اور ایران عراق جنگ میں پاسدارانِ انقلاب کا حصہ بنے، بعد ازاں وہ ایران کے سرکاری میڈیا (IRIB) کے سربراہ، وزیرِ ثقافت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ لاریجانی کی شہادت کی خبر نے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچا دی ہے۔
لاریجانی وہ شخصیت تھے جو فوج (IRGC)، مذہبی قیادت اور سیاسی اشرافیہ تینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ غیر رسمی طور پر نظام کے سب سے طاقت ور فرد بن گئے تھے۔
وہ نظام کا دماغ سمجھے جاتے تھے
علی لاریجانی کو ایران کے طاقتور ترین پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا تھا، بطور سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، وہ دفاعی حکمتِ عملی، ایٹمی پروگرام اور خارجہ تعلقات کی نگرانی کر رہے تھے
انہیں ایک ایسی شخصیت سمجھا جاتا تھا جو فوج، مذہبی قیادت اور سیاسی حلقوں کے درمیان توازن قائم رکھتی تھی۔

••جنگ کے دوران بڑھتا کردار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد لاریجانی کا کردار مزید نمایاں ہو گیا تھا، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کم دکھائی دے رہے تھے۔حال ہی میں لاریجانی کو تہران میں حکومتی ریلی میں عوام کے درمیان دیکھا گیا تھا، جو ایران کے مؤقف کا کھلا اظہار تھا۔
ایٹمی اور سفارتی محاذ پر اہم کردار
لاریجانی ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور عالمی مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی، جس سے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الگ ہو گئے تھے۔
شہادت کے ایران پر ممکنہ اثرات
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے، اندرونی سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ان کے جانے سے پاور ویکیوم پیدا ہو سکتا ہے، مختلف دھڑوں میں کھینچا تانی بڑھ سکتی ہے، جنگی فیصلے سست یا غیر مؤثر ہو سکتے ہیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول
سسٹم کمزور ہو سکتا ہے۔علی لاریجانی کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران پہلے ہی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد قیادت کے بحران سے گزر رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
•••ایک دور کا اختتام
علی لاریجانی کو ایران کے اندرونی نظام کے ماہر کے طور پر جانا جاتا تھا، جو ناصرف طاقت کے ایوانوں میں اثر رکھتے تھے بلکہ مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔ان کی شہادت ایران کے لیے صرف ایک سیاسی نقصان نہیں بلکہ اسٹریٹجک سوچ اور سفارتی مہارت کے ایک مکمل دور کا خاتمہ بھی ہے



