لبنانی حکومت نے پہلی بار فوج کو حزب اللہ سے ہتھیار چھڑانے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ 1990 میں طائف معاہدے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ طائف معاہدے کے تحت خانہ جنگی کے بعد تمام ملیشیاؤں کو غیر مسلح کیا گیا، لیکن حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف "مزاحمت” کے نام پر ہتھیار رکھے۔یہ قدم اس سیاسی و عسکری حمایت کے برخلاف ہے جو ماضی کی حکومتوں نے "فوج، عوام اور مزاحمت” کی سہ فریقی پالیسی کے تحت دی۔
تاہم، اب حالات بدل چکے ہیں … گزشتہ سال اسرائیل سے جنگ میں حزب اللہ کمزور ہوئی، ایران کو بھی 12 روزہ جنگ میں دھچکا پہنچا اور شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی۔
اس سے قبل 2008 میں بھی حزب اللہ کے وائرلیس مواصلاتی نیٹ ورک پر اعتراض کے سبب ہونے والی خون ریز جھڑپوں میں 65 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
"بڑی غلطی":حزب اللہ نے حکومتی فیصلے کو "بڑی غلطی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسے نظرانداز کرے گی۔ امکانات ہیں کہ حزب اللہ اپنے وزراء کو مستعفی کرا کر پارلیمان مفلوج کرے، یا سڑکوں پر دباؤ بڑھائے۔
ایک امکان یہ بھی ہے کہ وہ فوج سے ٹکراؤ کی راہ اختیار کرے، جس کا نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے …اور اکثریتی رائے اس کے خلاف جا سکتی ہے۔
فوج سے تصادم یا اسرائیل سے جنگ؟
لبنانی امور کے ماہر ڈیوڈ وُڈ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ فوج سے تصادم سے بچنا چاہے گیا، کیونکہ یہ اس کی ساکھ کے لیے تباہ کن ہوگا۔ حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان علی عمار نے اس امکان کو رد کیا اور فوج سے "بہترین مفاہمت” کا دعویٰ کیا۔بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ محاذ کھول سکتی ہے، لیکن شامی حکومت کے سقوط اور ایرانی امداد کی مشکلات کے باعث اس کے لیے ایسی کسی جنگ میں جانا نہایت خطرناک ہو گا۔
سب سے زیادہ حوصلہ افزا منظر نامہ
ایک پُر امید منظرنامہ یہ بھی ہے کہ حزب اللہ آخرکار ہتھیار ڈال کر دیگر جماعتوں کی طرح سیاست کرے، لیکن لبنانی ذرائع کے مطابق یہ بغیر کسی "قیمت” کے ممکن نہیں … اور اس کا فیصلہ تہران کی منظوری سے مشروط ہے۔”اٹلانٹک کونسل” کے محقق کے مطابق حزب اللہ شاید وقت حاصل کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ وہ مکمل طور پر غیر مسلح ہونے پر آمادہ نہیں۔
لبنان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
لبنان اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی اور عرب امداد اس امر کے ساتھ مشروط ہے کہ ملک میں صرف قانونی ادارے ہی اسلحہ رکھیں۔
لبنانی صدر جوزف عون نے حال ہی میں کہا کہ ملک کو یا تو استحکام یا مکمل تباہی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔
ادھر اسرائیل پہلے ہی انتباہ جاری کر چکا ہے کہ اگر حزب اللہ کے ہتھیار نہ چھینے گئے تو وہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں حزب اللہ کو سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ایران سے اسلحہ اور رقوم کی فراہمی اب انتہائی مشکل بن چکی ہے۔ اس لیے کہ لبنانی اور شامی حکومتوں نے سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی ہے اور مالی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔








