جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچانک نہیں ہوا ہے۔ اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے وندے ماترم اور پرویز مشرف کے معاملے پر بھی بات کی۔مولانا مدنی نے کہا، "ہم پریشان ہیں، اور یہ اچانک نہیں ہے۔ ہمیں آپ سے، ہمارے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزرائے اعلیٰ سے توقعات ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ انتخابات کے لیے تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہر کوئی ہمارے خلاف ہے، لیکن سب کو مل بیٹھ کر کمیونٹی کے تحفظات کو دور کرنا چاہیے۔ استعمال کی جانے والی زبان کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ حکومت سے رجوع کریں گے۔
مولانا مدنی نے مشرف واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں خاموش اکثریت کے تناسب میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں خاموش اکثریت 90 فیصد تھی لیکن اب کم ہو کر 60 فیصد رہ گئی ہے۔
‘وندے ماترم’ پر سخت موقف
‘وندے ماترم’ کی 150ویں سالگرہ پر بحث کرنے اور سرمائی اجلاس میں اس کے گانے کو لازمی قرار دینے کے بارے میں حکومت کی بحث کے درمیان مولانا مدنی نے اپنی تنظیم کا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم نے 2011 میں اور اس سے پہلے بھی وندے ماترم پر کافی بحث کی تھی۔
۔نومبر 2009 میں جمعیۃ علماء ہند نے دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے کی تائید میں ایک قرارداد پاس کی کہ ‘وندے ماترم’ گانا توحید کے منافی ہے، کیونکہ اس کی بعض آیات میں مادر وطن کو دیوتا کے طور پر پوجنے کی بات ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ ‘وندے ماترم’ کے متنازعہ حصے نہیں گائے جائیں۔ مدنی نے کہا، "اب وہ کہہ رہے ہیں کہ وندے ماترم لازمی ہوگا۔ اسے زبردستی نافذ کرنا ہندوستان کی روایت کے مطابق نہیں ہے،” ۔انہوں نے مزید کہا، "اگر ضروری ہوا تو ہم اسے قانونی طور پر چیلنج کریں گے۔ پہلے ہم اس پر بات کریں گے اور سول سوسائٹی کو ساتھ لانے کی کوشش کریں گے۔”لائیو ہندوستان کے آن پٹ کے ساتھ









