مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کی ایک مسجد میں اتوار کی صبح ہونے والے دھماکے سے مقامی کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکا تحصیل گیورائی کے اردھا مسالہ گاؤں میں واقع ایک مسجد میں صبح 2:30 بجے کے قریب ہوا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں مسجد کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس معاملے میں دو ملزمین وجے راما گاوہانے (22) اور شری رام اشوک ساگڑے (24) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے دونوں باشندے بیڈ کے گیورائی تعلقہ کے رہنے والے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیر اعظم مودی ریاست کے دورے پر ہیں اور ریاست میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

گاؤں کے تمام برادریوں کے لوگوں نے مسجد کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کی ذمہ داری لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گاؤں کی ہم آہنگی کو کوئی نہیں بگاڑ سکتا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا جیلیٹن کی چھڑیوں کے ذریعے کیا گیا۔ جسے مسجد کے عقبی حصے سے ایک شخص نے اندر پھینکا۔ واقعے کے بعد گاؤں میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے بھاری نفری تعینات کردی۔ گاؤں کے سرپنچ نے صبح 4 بجے تلوارہ پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ بیڈ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نونیت کنوت نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور حالات اب قابو میں ہیں۔
اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہا، "ہمیں واقعے کی اطلاع ملی ہے اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے، لیکن، انہوں نے ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ باقی معلومات دیں گے۔” انہوں نے یہ بیان ناگپور میں دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملزمان نے واردات کرنے سے پہلے منصوبہ بندی کی تھی۔ دھماکے کے بعد گاؤں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ عید الفطر سے ایک دن پہلے پیش آیا جس سے مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے مظاہرہ کیا۔
حکام نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس واقعہ سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں انتظامیہ چوکنا ہے۔ تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔