امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاکھ کوشش،دعوے اور شدید خواہش کے باوجود,غزہ میں جنگبندی کے باوجود امن کے نوبل انعام سے اس مرتبہ بھی چوک گئے۔ نوبل کمیٹی نے ونیزویلا ماریہ کورینا ماچاڈو کو اس سال کا نوبل امن انعام یافتہ قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے اپنے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ، ماریہ کورینا ماچاڈو نے وینزویلا کے لوگوں کے جمہوری حقوق کو فروغ دینے اور آمریت سے جمہوریت کی منصفانہ اور پرامن منتقلی کے حصول کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے اس انتھک کام کے لیے انھیں امن کے نوبل انعام سے نوازا جا رہا ہے۔کمیٹی نے ماچاڈو کی جیت کے بارے میں کہا کہ، "2025 امن کا انعام ایک بہادر اور پرعزم چیمپیئن کے پاس جاتا ہے، ایک ایسی عورت کے پاس جو بڑھتے ہوئے اندھیرے میں جمہوریت کے شعلے کو جلائے رکھتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: "وینزویلا میں ڈیموکریٹک فورسز کی رہنما کے طور پر، ماریا کورینا ماچاڈو لاطینی امریکہ میں سویلین جرات کی سب سے غیر معمولی مثالوں میں سے ایک ہیں۔حالیہ دنوں میں، ماچاڈو ایک سیاسی اپوزیشن میں ایک اہم متحد شخصیت رہی ہیں۔امن کا نوبیل انعام (نوبل پیس پرائز) اس شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے اور امن کے قیام اور فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔نوبل کمیٹی کے مطابق وینیزویلا میں جمہوریت کی تحریک کی رہنما کی حیثیت سے ماریا کورینا ماچاڈو حالیہ دور میں لاطینی امریکہ میں شہری جرأت (سِول کریج) کی سب سے غیر معمولی مثالوں میں سے ایک ہیں۔انہوں نے ایک ایسی سیاسی اپوزیشن کو متحد کیا جو پہلے شدید تقسیم کا شکار kaتھی، اس اپوزیشن نے آزادانہ انتخابات اور نمائندہ حکومت کے مطالبے پر اتفاق کیا۔
ماریا کورینا ماچاڈو کون ہیں؟
ماریا کورینا ماچاڈو 7 اکتوبر 1967 کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں پیدا ہوئیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر اور صنعت کار ہیں۔ ماچاڈو نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سماجی خدمات سے کیا اور 1992 میں ’اٹینیا فاؤنڈیشن‘ قائم کی، جو کاراکس کے بے گھر اور محروم بچوں کے لیے کام کرتی ہے۔انہوں نے 2001 میں انتخابی شفافیت کے لیے ’سوماتے‘ نامی تنظیم بنائی، جس کا مقصد عوامی شعور اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا تھا۔








