معروف عالم دین اور آل انڈیا پرسنل لا بورڈ کے سینئر ممبر مولانا سجاد نعمانی پرمیڈیا رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کانپور میں جمیعت علمائے ہند کے کارکنوں کے زیر اہتمام حسین ـ معاویہ ( رضی اللہ عنہما )کانفرنس میں اشتعال انگیز تقریر کی اور لوگوں کو میدان میں اترنے کے لیے اکسایا اور مسلم کمیونٹی کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ‘تبدیلی’ میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔ مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ "تبدیلی کی خواہش کے باوجود اس میں تاخیر کی جا رہی ہے، ابھی تک اس کا کوئی ماڈل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ لوگ زیادہ دیر تک کھڑے ہو کر تماشا نہیں دیکھ سکتے۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق اسی دوران مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر وشواس کیلاش سارنگ نے ان کے بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ۔
مولانا سجاد نعمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "عام لوگ موجودہ حالات کا زیادہ دیر تک تماشا نہیں دیکھتے، ایک وقت آتا ہے جب ایک چنگاری بھڑک اٹھتی ہے اور عوام اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے حرکت میں آجاتے ہیں، لوگوں کو مارا جاتا ہے، گولیاں کھاتے ہیں، بموں سے اڑانے جاتے ہیں اور جیلوں میں بھی ٹھونسے جاتے ہیں ، لیکن عوام اس وقت یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں لیکنStatus Quo (سٹیٹس کو) برداشت نہیں کرتے تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں’۔ انہوں نے آگے کہا ، "دنیا اور ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس پہلو پر وہ توجہ جیسی ہونی چاہیے نہیں دی جا رہی جس کا یہ مستحق ہے۔ اس میں بہت کمی ہے عوام میں تبدیلی کی لہر ہے۔”
مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر وشواس کیلاش سارنگ نے کہا، "مولانا جی، یہ مت بھولیں کہ آپ بول پارہے ہیں ہیں، اگر ظلم ہوتا تو آپ کیا کہہ پاتے؟ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، اگر مسلمان اس ملک یا دنیا میں کہیں بھی بہتر حالت میں ہیں تو وہ ہندوستان میں ہیں۔ ان جنونی اور خوشامدی سیاست دانوں نے مسلمانوں کی حالت خراب کر دی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "کسی غلط فہمی میں نہ رہیں سجاد میاں، اچھی زندگی گزاریں، اگر آپ اچھی زندگی گزاریں تو آپ ٹھیک اور خوش رہیں گے، اگر آپ بہت زیادہ بیانات دیں گے تو آپ ٹھیک ہوجاؤگے ۔”
اسی دوران دینک جاگرن کے مطابق مولانا سجاد نعمانی نے مدرسہ جامع العلوم میں گفتگو کے دوران کہا کہ "میں محمد سے محبت کرتا ہوں” کا اظہار اس طرح کیا جائے کہ اس کا مثبت نتیجہ نکلے۔ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کا نتیجہ مثبت نکلے گا یا نہیں۔ اگر نتیجہ مثبت ہے، تو آگے بڑھیں؛ اگر نتیجہ منفی ہے، تو اپنے آپ کو روکیں.
جاگرن نے آگے بتایا کہ مولانا نے کہا "میں محمد سے محبت کرتا ہوں” صرف مسلمانوں کی آواز نہیں بلکہ ہر مہذب انسان کے دل کی آواز ہے۔ اسے کسی کو چھیڑنے یا اکسانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ’’میں محمد سے محبت کرتا ہوں‘‘ کے نام پر احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ طاقتیں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہمیں ان سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے








