نئی دہلی، 01۔ اکتوبر: آئی لو محمد ﷺ تنازعے میں معروف عالم دین اور اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان سمیت مختلف مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے پولیس ایکشن کو "متعصبانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف مسلمانوں کی دھڑا دھڑ گرفتاری سے پولیس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام ملزمان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
محمد ادیب نے الزام عائد کیا کہ کانپور سے شروع ہوا معاملہ اور بریلی میں پولیس کارروائی دراصل "یوگی سرکار کی سوچی سمجھی سازش” کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوراتری اور ہندو جلوسوں کے دوران کھلے عام اسلحوں کی نمائش، مساجد کے سامنے ڈي جے بجانا اور اشتعال انگیز نعرے بازی پر پولیس تماشائی بنی رہتی ہے، لیکن مسلمانوں کے پرامن مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فتح پور میں مقبرے میں توڑ پھوڑ اور غنڈہ گردی کے واقعات پر پولیس کی خاموشی یوپی انتظامیہ کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ "یوگی سرکار مسلمانوں کو سبق سکھانے کی بات کھلے عام کر رہی ہے، یہ کسی منتخب نمائندے کی زبان نہیں ہونی چاہیئے اور عدالتیں اس تعصب پر مبنی بیانات پر خاموش ہیں۔ اگر سزائیں وزرائے اعلیٰ دیں گے تو عدالتوں کی موجودگی بے معنی ہو جاتی ہے،” انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر گرفتاری اور جیل بھیجا جا رہا ہے جبکہ اس کے جواب میں کچھ نفرتی لوگ آئی لو مہادیو مہم چلا رہے ہیں۔ سرکار اگر ایماندار ہے تو ان پر بھی کارروائی کرے۔ مسلمانوں سے دشمنی ظاہر کرکے آپ ملک کا نقصان ہی کریں گے۔۔ محمد ادیب نے کہا کہ "محمد ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے، اسے جرم قرار دینا مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔








