اتر پردیش کے مظفر نگر سے عجیب اور چونکا دینے والی تصویریں سامنے آئی ہیں۔ یہاں کروا چوتھ جیسے روایتی اور مبارک تہوار کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دراصل کرانتی سینا کی خواتین ونگ کی کارکنان ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کروا چوتھ پر ہندو بہنوں اور بیٹیوں کے ہاتھوں پر مہندی لگانے والے مسلمان نوجوان ایک سازش کے تحت ‘مہندی جہاد’ کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے ‘لو جہاد’ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کی طرف سے مہندی نہ لگائیں۔ کرانتی سینا کی خواتین نے کہا کہ اگر کوئی مسلم نوجوان ہندو خواتین کو مہندی لگاتا ہوا پایا گیا تو اسے لاٹھی مار کر سبق سکھایا جائے گا۔
**خواتین نے لاٹھیوں کی پوجا کی۔
کہانی شہر میں کرانتی سینا کے دفتر سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں ایک مہندی کیمپ لگایا گیا، جہاں سینکڑوں ہندو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگائی۔ کیمپ کے دوران مہیلا مورچہ کے کارکنوں نے لاٹھیوں کی پوجا کی۔ ایک اسٹیج پر کھڑے ہو کر انہوں نے کھلے عام اعلان کیا کہ اس کاروا چوتھ پر وہ بازاروں میں دکانوں پر جائیں گے اور مہندی لگانے والے نوجوانوں کے آدھار کارڈ چیک کریں گے۔ انہوں نےعہد کیا کہ اگر کسی مختلف کمیونٹی کا کوئی نوجوان پکڑا گیا تو اسے لاٹھیوں سے سبق سکھایا جائے گا، "ان کے اپنے انداز میں۔”
بازاروں کا دورہ کریں گی اور دکانوں کا معائنہ کریں گی۔
کرانتی سینا کی یہ مہم اب پورے مظفر نگر میں چلائی جائے گی۔ خواتین کارکن مختلف بازاروں کا دورہ کریں گی اور دکانوں کا معائنہ کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک "روک تھام” کی کوشش نہیں ہے بلکہ ہندو ثقافت کے "تحفظ” کی کوشش ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’’لو جہاد‘‘ کی سیاست اور لاٹھی چارج کی دھمکیاں کروا چوتھ کی خوشی میں کیا مقام رکھتی ہیں؟ یہ پورا واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں تہواروں کا تقدس محفوظ ہے یا وہ بھی مذہب اور جنون کا شکار ہو رہے ہیں۔








