ملاحظات: مولانا عبدالحمید نعمانی
آر ایس ایس کے صد سالہ سہ روزہ اجلاس میں کئی باتیں ہوئیں، کچھ پہلے جیسی، کچھ حال جیسی، ملک اور سیاسی پارٹیوں سے متعلق باتیں تو مشترک ہیں لیکن ہندوتو، راشٹر واد، آر ایس ایس کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے باتوں کو لے کر پہلے کی طرح بحث و گفتگو شروع ہو گئی ہے، اس کے معانی و مطالب، پیغامات و اشارے بھی بڑی حد تک کچھ خاص ہیں، سنگھ نے ہندو اکثریتی سماج کے لیے کچھ خاص طرح کے کام کیے ہیں، مجموعی طور پر ملک کے مفاد میں کتنا کچھ کیا ہے اور اس کے فوائد اہل ملک جس میں مسلم اقلیت بھی شامل ہے کتنے ملے ہیں اور آئندہ ملیں گے، یہ ایک بحث طلب موضوع ہے لیکن یہ بالکل طے اور شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ سنگھ نے سو برسوں میں اپنے لیے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے اور اس کا دائرہ کار و اثر بہت زیادہ وسیع ہو گیا ہے، اس کے زیر اثر تمام مرکزی و ریاستی سرکاریں رہی ہیں، تقسیم وطن سے پیدا شدہ حالات کا زیادہ فائدہ فرقہ پرست عناصر کو ہوا ہے، ان میں پڑوسی ملک کے فرقہ پرست بھی شامل ہیں، لیکن مسلم ملت کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا تاہنوز رہا ہے، بھارت میں سب سے زیادہ فائدے میں ہندوتو وادی عناصر خصوصا آر ایس ایس رہا ہے، اس کا کردار روز قیام سے ہی مشکوک رہا ہے، سنگھ بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار مختلف قسم کی خفیہ سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں، (تفصیل کے لیے دیکھیں راقم سطور کی کتاب، سنگھ بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار، حیات و تحریک )انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف کوئی خاص کام نہیں کیا لیکن اس کے باوجود سنگھ آزادی کے پہلے بھی شک کے گھیرے میں رہا ہے اور اس پر پابندی لگائی گئی، آزادی کے بعد بھی تین بار پابندیوں کی زد میں رہا، پہلی پابندی گاندھی جی کے قتل کے الزام میں لگائی گئی تھی، لیکن اس سلسلے میں اپنے مقصد کے تحت سردار پٹیل کا نام نہیں لیتا ہے، پابندیوں کے باوجود سنگھ کی خصوصی سرگرمیاں بدستور جاری رہیں، اس نے ہر پابندی کا سامنا و مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور گزرتے دنوں کے ساتھ اپنے دائرہ کار و اثر کو بڑھانے میں کامیاب رہا ہے، اس کا سبب یہ رہا ہے کہ کانگریسی غیر کانگریسی سرکاروں نے آر ایس ایس اور اس کے مقاصد کے تحت جاری سرگرمیوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور تقسیم وطن سے پیدا شدہ حالات میں اس کی طرف سے مسلمانوں کے متعلق اشتعال انگیز، جذباتی الزامات کے دباؤ میں آ کر ایسے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں جن کے فوائد آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کو اور نقصانات دلتوں، آدی واسیوں، اقلیتوں خصوصا مسلم اقلیت کو ہوتے رہے ہیں، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بہت بعد کے دنوں میں سنگھ کے دوسرے سنگھ سرسنچالک مادھو سدا شیو گرو گولولکر نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں، بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد محسوس کیا کہ تقسیم وطن سے اکھنڈ بھارت کے تصور پر بڑی زد پڑی ہے، اس کی تلافی اسی صورت میں ہوگی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بقیہ بھارت تینوں متحد ہو کر اکھنڈ بھارت ہوجائیں اور ہندو مسلم ایک ہو کر مضبوط بھارت کے لیے کام کریں لیکن سنگھ کی جڑ، بنیاد میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ اتحاد و یگانگت کی راہ آج تک ہموار نہیں ہو سکی ہے، اس کے وجوہ و اسباب پر راقم سطور نے اپنی کئی کتابوں میں روشنی ڈالی ہے، معروف مسلم تنظیموں، جمعیۃ علماء ہند وغیرہ نے آزادی کے بعد قومی اتحاد و یک جہتی، قیام امن اور ہندو مسلم اتحاد و یگانگت کے عنوان سے بے شمار اجلاس ،کانفرنسیں کی ہیں، لیکن اس سلسلے میں سنگھ کی طرف سے کوئی خاص پروگرام و کام نہیں کیا گیا، پانچویں سنگھ سرسنچالک کے سی سدرشن نے اپنے آخری ایام میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تھوڑی کشادہ دلی دکھاتے ہوئے سماج کی تشکیل و تعمیر میں اسلام کے رول پر توجہ دی تھی، ان ہی کے عہد میں دسمبر 2002 میں مسلم راشٹریہ منچ کا قیام بھی عمل میں آیا تھا لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی سمت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی، 2009 میں ڈاکٹر بھاگوت کے سنگھ سر سنچالک نامزد ہونے کے ابتدائی ایام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ، البتہ مرکز میں مودی سرکار کی تشکیل کے بعد ملکی و عالمی حالات کے مد نظر ہندو مسلم، تمام ہندستانیوں کے ڈی این اے کے ایک ہونے کی بات کی جانے لگی، لیکن آر ایس ایس سمیت دیگر ہندوتو وادی عناصر نے فرقہ وارانہ اتحاد کو کوئی زیادہ قابل توجہ معاملہ نہیں سمجھا اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ کار و بار میں بدل گیا، اس کو کم یا ختم کرنے میں سولہ سترہ برسوں میں ڈاکٹر بھاگوت کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے، وہ مختلف مواقع پر اسلام اور مسلمانوں کو ایک خاص طرز کے ہندستانی سماج و تہذیب سے جوڑ کر سامنے رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، یہی کچھ انھوں نے سنگھ کے صد سالہ دہلی اجلاس میں بھی بھی کیا ہے، لیکن لگتا ہے کہ سنگھ سے وابستہ بڑے چھوٹے عہدے دار، کارکنان اور ذیلی و معاون تنظیمیں، پارٹیاں، ڈاکٹر بھاگوت کی خاص خاص صحیح باتوں کو بھی عملی جامہ پہنانے میں کوئی زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتی ہیں، یہ ایک طرح سے ڈاکٹر بھاگوت کی اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اچھی باتوں کو بھی، اپنے خصوصی پست مفادات کے سبب بے اثر کرنے یا ان کو عملا غیر اہم اور ناقابل توجہ سمجھنے کے ہم معنی ہے، جیسا کہ کے سی سدرشن کے اسلام اور مسلمانوں کے قریب ہونے یا ان کو قریب کرنے کو کوششوں کو ایک طاقت ور گروہ کی طرف سے سنگھ کی لیک سے ہٹا قرار دے کر بے معنی بنا دیا گیا تھا اور ان کے ذہن و فہم پر سوال کھڑا کر دیا تھا، ڈاکٹر بھاگوت کی اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کئی قابل توجہ و عمل باتوں پر بھی ہندوتو وادی عناصر کی کسی خاص دلچسپی و پسندیدگی نظر نہیں آتی ہے، حالاں کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر لال قلعہ سے عوامی نمائندے ، وزیراعظم نے آر ایس ایس کی تعریف و تحسین کی ہے اور 24ممالک کے 50 سے زیادہ سیاسی نمائندے و مشاہد آر ایس ایس کے صد سالہ اجلاس میں شریک ہوئے، اس سے یہ تو اندازہ ہوتا ہی ہے کہ ڈاکٹر بھاگوت کے عہد سر براہی میں سنگھ، ملک و عالمی ممالک کی سطح پر اپنے اثرات بڑھانے میں خاصا کامیاب رہا ہے، اب اس نے اپنے صد سالہ سفر کے تناظر میں ایک لاکھ سے زائد ہندو اجلاس کرنے کے علاوہ کئی دیگر پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا آغاز رواں سال کے 2/ اکتوبر کو وجے دشمی کے دن ناگپور میں تنظیم کے صدر دفتر میں ڈاکٹر بھاگوت کے خطاب سے ہو گا، یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ صد سالہ تقریبات کے دوران میں ملک گیر سطح پر گھر گھر رابطہ پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے، اپنے اہداف حاصل کرنے میں مسلم راشٹریہ منچ اور سنگھ کے زیر اثر امام آرگنائزیشن وغیرہ کا بھی استعمال کیا جائے گا، اس کا اظہار و اعلان کچھ دنوں پہلے ہریانہ بھون میں منعقد ایک پروگرام میں کیا جا چکا ہے، اس میں اور صد سالہ اجلاس میں اس کا بھی عندیہ دیا گیا کہ ہندو مسلم کے درمیان مذہبی تنازعات کو کم کیا جائے گا اور سال رواں میں 20کروڑ گھروں سے رابطہ کیا جائے گا، ڈاکٹر بھاگوت ، مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں اور صد سالہ اجلاس میں بھی یہ پیغام دیا ہے کہ ہندو مسلم دو نہیں بلکہ ایک ہیں، روایات و ابا۶و اجداد کے ساتھ دونوں کا ڈی این اے بھی ایک ہے، انھوں نے ملک میں اتحاد، سالمیت، بھائی چارے اور خیر سگالی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی تاریخ تنوع اور تہذیبی وسعت کی مظہر ہے، یہاں مختلف زبانیں ،تہذیبیں اور مذاہب ساتھ ساتھ پروان چڑھے، یہی تنوع اس سرزمین کی اصل طاقت ہے، ہندستان صرف ہندوؤں کا نہیں سب کا ہے، دنیا کو چلانے کے لیے اپنائیت کی ضرورت ہے، سودے بازی کی نہیں، آج بھارت کو سب سے زیادہ ضرورت اس کی ہے کہ ملک کے سبھی شہری خواہ کسی مذہب، زبان یا برادری سے تعلق رکھتے ہوں، ایک دوسرے کے قریب آئیں، یہ ملک اسی وقت مضبوط رہ سکتا ہے جب تک کہ اس کے ہر شہری کو یہ احساس ہو کہ یہ دھرتی سب کی ہے، اگر کوئی طبقہ یہ سمجھے کہ اس کی شناخت خطرے میں ہے تو اس سے انتشار و بد اعتمادی پھیلتی ہے، ہندستانی مسلمان بھ ہمارے اپنے ہیں، گرچہ اسلام اور عیسائی مذاہب بھارت میں باہر سے آئے ہیں تاہم جنھوں نے ان نظریات کو قبول کیا وہ یہیں کے لوگ ہیں، ہمیں دوریاں ختم کرنے چاہئیں، اسلام شروع دن سے بھارت میں ہے اور رہے گا، سیوم سیوکوں کے دوستوں کی فہرست میں سماج کے تمام طبقات اور مذاہب کے لوگ ہونے چاہئیں،
ان باتوں کے علاوہ ڈاکٹر بھاگوت نے کئی ایسی باتیں بھی کہی ہیں جن پر سنجیدہ بحث و مکالمے کی ضرورت ہے، مسلم سماج نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق مثبت باتوں کو اچھی نظر سے دیکھا ہے، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، جو سات آٹھ سال پہلے ڈاکٹر بھاگوت سے ملاقات کر کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات بھی کر چکے ہیں نے سنگھ کی تجاویز کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سنگھ سربراہ ڈاکٹر بھاگوت سے ملاقات کریں گے، دیگر لوگوں کی بات زیادہ قابل توجہ و اہم نہ بھی ہو لیکن جمعیۃ علماء ہند اور مولانا مدنی کی باتیں، بھارت میں راشٹر واد، اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں ایک خاص معنی رکھتی ہیں، ان کی طرف سے ڈاکٹر بھاگوت کی کئی ساری باتوں کی تصحیح اور ہندو مسلم کے درمیان مختلف اختلافی باتوں کی بہتر وضاحت ضروری ہے، مثلا یہ کہ اسلام بھارت میں اسلام حملے کے نتیجے میں آیا ہے، یہ تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں ہے، بھارت میں اسلام، علماء، صوفیاء و تجار کے ذریعے سے آیا اور پھیلا ہے، کیرلہ اس کی واضح مثال ہے، تصور وطنیت کے متعلق بھی مسلمانوں کے صحیح نقطہ نظر کو سنگھ اور بھارت کے سامنے رکھنا ضروری ہے کہ ان کے لیے وطن محبوب ہے، معبود نہیں، پروجوں کے معاملے میں مسلمان بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں کہ وہ رام، کرشن سے بھی اوپر انسانی رشتہ حضرت آدم و حوا سے قائم کر کے وحدت الہ و آدم کا بہتر نظریہ پیش کر سکتے ہیں، اس سے بھارت دیگر ممالک و سماج سے مضبوط رشتہ قائم کیا جاسکتاہے، جیسا کہ مولانا مدنی اس کی طرف اجلاس عام دہلی میں متوجہ کر چکے ہیں، راشٹر واد کے متعلق سنگھ و ہندو مہا سبھا کا نظریہ منفی و جارحانہ ہے تاہم ڈاکٹر بھاگوت نے مولانا آزاد رح و مولانا مدنی رح کے نظریہ وطنیت کا ذکر کر کے اس تعلق سے بحث و مکالمے کا راستہ کھول دیا ہے، ان کو اس طرف متوجہ کرنا ہوگا کہ آپ کے برخلاف ہندو اکثریتی سماج سے تعلق رکھنے والے، ہیمنت بسوا سرما جیسے لوگ تو بھارت سے اسلام کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، بی جے پی میں کئی سارے لیڈر ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز باتیں کرتے رہتے ہیں، سنگھ وچارک کے طور پر سامنے آ کر پروفیسر راگی جیسے لوگ اسلام کے متعلق نفرت انگیز بیانیے پیش کرتے ہیں، بذات خود کاشی، متھرا کے متعلق آپ کا بیان، ہندو مسلم کے قریب آنے کی راہ میں رکاوٹ اور عبادت گاہ قانون 1991 کے خلاف ہے، اس کے علاوہ حملہ آور کی تعریف و تفریق، مسلم و اسلامی نام والے مقامات کے ناموں میں تبدیلی جیسے معاملے بھی بحث طلب موضوع ہیں، مطلب یہ ہے کہ سنگھ کے صد سالہ یوم تاسیس اجلاس سے باتیں ختم نہیں بلکہ شروع ہوئی ہیں اس کے پیغامات اور اشارے کے کئی ایسے پہلو ہیں جن کو اچھی طرح سمجھنے اور ان پر بہتر تبادلہ خیالات اور بحث و مکالمے کی ضرورت ہے،











