اب کیا سرکار ایودھیا کے معید خان کو ان کی وہ املاک دوبارہ تعمیر کرکے دے گی جس کو اس نے محض ریپ کے الزام پر ہی بلڈوز کردیا تھا ؟ان کی مجروح عزت واپس دلائے گی؟ کیا ان کے جیل میں گزرے دن واپس لوٹائے گی؟ کیا میڈیا ناپاک پروپیگنڈہ مہم پر معافی مانگے گا ؟یہ سوال اس لیے پیدا ہوا ہے کیونکہ ایودھیا کے بھدرسا علاقے سے انتہائی مشہور گینگ ریپ کیس میں بدھ کو ایک بڑا عدالتی فیصلہ سنایا گیا۔ خصوصی POCSO جج نروپما وکرم کی عدالت نے سماج وادی پارٹی کے رہنما معید خان کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ POCSO فرسٹ کورٹ کے ذریعہ دیے گئے اس فیصلے نے اس ہائی پروفائل کیس کو ختم کر دیا جو چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے چل رہا تھا۔
عدالت نے 14 جنوری کو ہونے والی حتمی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ معید خان کو بدھ کی سہ پہر ساڑھے تین بجے کیس کی سماعت کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔
***کیا تھا پورا کیس؟
یہ کیس 29 جولائی 2024 کو پورکلندر پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ جیسے ہی ایک نابالغ کی اجتماعی عصمت دری کے الزامات سامنے آئے، ضلع میں سیاسی اور انتظامی ہنگامہ بڑھ گیا۔ تفتیش کے دوران معید خان اور اس کے نوکر راجو خان سے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ ڈی این اے رپورٹ میں معید خان کا ڈی این اے منفی ظاہر ہوا جب کہ ان کا ڈی این اے مثبت تھا۔استغاثہ نے متاثرہ کی حمایت میں کل 13 گواہ عدالت میں پیش کئے۔ عدالت نے ڈی این اے رپورٹ سمیت تمام شواہد، شہادتوں اور تفتیش کی مکمل جانچ کے بعد معید خان کو بری کردیا۔ دریں اثنا، نوکر راجو خان کے خلاف مقدمے کی سماعت جمعرات کو ہونے والی ہے، جہاں سزا متوقع ہے۔
بریت کی بنیادی وجوہات کیا تھیں؟
ڈی این اے رپورٹ معید خان کے ڈی این اے سے میل نہیں کھاتی تھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ واقعے کے دوران ایک ویڈیو لی گئی تھی، تاہم عدالت میں کوئی ویڈیو ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ پولیس کی تفتیش میں جائے وقوعہ کے حوالے سے سنگین تضادات سامنے آئے، کبھی بیکری کے باہر درخت کے نیچے اور کبھی بیکری کے اندر۔ عدالت میں متاثرہ کی والدہ نے اعتراف کیا کہ مقدمہ سیاسی دباؤ پر درج کیا گیا۔
*وکیل اور استغاثہ کا کیا جواب تھا؟
معید خان کے وکیل سعید خان نے کہا کہ عدالت نے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر منصفانہ فیصلہ دے کر ان کے موکل کو بری کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش میں تضاد شروع سے ہی ظاہر تھا جو بالآخر عدالت پر واضح ہو گیا۔ اس دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر وریندر کمار نے کہا کہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
**بلڈوزر ایکشن بھی تنازع :
کیس سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے معید خان کی بیکری اور دو منزلہ شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوز کر دیا، جس سے بڑے پیمانے پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ عدالت کے فیصلے سے معید خان کے حامیوں اور اہل خانہ کو اہم ریلیف ملا ہے جب کہ یہ کیس ایک بار پھر عدالتی عمل اور سیاسی مداخلت پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔
**پوری کہانی؟
29 جولائی 2024 ایف آئی آر درج کی گئی۔
30 جولائی 2024 معید خان اور راجو گرفتار
یکم اگست 2024 کا مسئلہ اسمبلی میں اٹھایا گیا۔
3 اگست 2024 بیکری پر بلڈوزر کی کارروائی
6 اگست 2024 متاثرہ کا کے جی ایم یو میں اسقاط حمل ہوا، جنین کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا
7 اگست 2024 ملزمان کے ڈی این اے نمونے
30 ستمبر 2024 کو سیل بند لفافے میں پیش کی گئی ڈی این اے رپورٹ راجو کے نمونے سے ملتی ہے۔
جنوری 2026 معید خان کو بری کر دیا گیا۔








