گوشالہ پشمی، مظفر نگر میں بنیادی طور پر ہندو اکثریتی علاقہ ہے، سے خبر ہے کہ مقامی ہندوتووادی کارکنوں نے ایک مسلم فیملی کی طرف سے مکان خریدنے کی مخالفت کی،اور اسے "ہاؤس جہاد” کا نام دے کر مقامی ابادی کو اکسا رہے ہیں ،ہہ دراصل اسلامو فوبک بیانیہ میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جس کو مسلمانوں کی طرف سے ہندو اکثریتی علاقوں میں آباد ہونے کی دانستہ کوششوں کا جھوٹا الزام لگانے کے لیے کیا گیا۔
علی حسن، جس نے حال ہی میں اس علاؤہ میں جائیداد خریدی ہے، نے الزام لگایا کہ کارکنوں کے گروپ ان کے گھر آتے رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو چھوڑنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے دی ہندوThe hindu کو بتایا، "ماضی میں، مختلف مواقع پر، لوگوں کا ایک گروپ، چار سے پانچ معلوم اور 15 سے 20 نامعلوم افراد، میرے گھر آئے اور ہمیں زبردستی وہاں سے جانے کے لیے کہا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔”
حسن کے مطابق، ان ہندوتووادی کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندو علاقے میں مسلمانوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور انہوں نے علاقے میں مظاہرے منظم کیے ہیں۔ رہائشیوں کو متحرک کرنے اور ان کی فیملی کی موجودگی کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل میٹنگوں کی مہم چلا نے کے ساتھ پوسٹر بھی لگائے گئے۔
دونوں فریقین نے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں ایک دوسرے پر دھمکی آمیز رویہ اور پریشانی پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے ابھی تک عوامی سطح پر اس معاملے میں کی گئی کارروائی کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔
اپوزیشن کانگریس نے اتر پردیش حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوتوا عناصر کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے ایک وفد علاقے میں بھیجے گی۔ کانگریس لیڈر انل یادو نے یہ بیان دیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھویان کے ریمارکس کے چند دن بعد آیا ہے کہ آئینی عدالتیں آئینی اخلاقیات کی وکالت کرنے کے باوجود ہندوستانی معاشرہ گہری تقسیم کا شکار ہے، یہ یاد کرتے ہوئے کہ کس طرح ان کی بیٹی کی دوست کو صرف اس کی مسلم شناخت کی وجہ سے دہلی میں فلیٹ دینے سے انکار کیا گیا تھا۔










