پٹنہ۔ تازہ سروے نے نتیش اور این ڈی اے کی نیند اڑادی ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ سرکار کے خلاف زبردست لہر چل رہی ہے ـ48فیصد سرکار بدلنے کے حق میں ہیں جبکہ صرف،27فیصد ہی سرکار کے ساتھ کھڑے ہیں آئیے تفصیل سے اس خبر اور سروے کا جائزہ لیتے ہیں
بہار انتخابات کی تاریخوں کا جلد اعلان ہونے جا رہا ہے اور اس سے پہلے ریاست میں انتخابی ماحول بنا ہوا ہے۔ ساتھ ہی مختلف سروے ایجنسیاں بھی اپنا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ اس ایپی سوڈ میں ووٹ وائب نے بہار انتخابات کے حوالے سے ایک سروے کیا ہے جس میں کئی چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ معلومات کے مطابق یہ سروے 3 ستمبر سے 10 ستمبر کے درمیان کیا گیا ہے اور اس میں کل 5635 نمونے جمع کیے گئے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ سروے اور اس کے اعداد و شمار اس لیے اہم ہو گئے ہیں کیونکہ اس سے پہلے بہار میں 17 اگست سے 1 ستمبر تک راہل گاندھی کی ووٹر رائٹس یاترا منعقد ہوئی تھی۔ تیجسوی یادو اور راہل گاندھی نے بہار کے 22 سے زیادہ اضلاع کا دورہ کیا اور وہاں یاترا نکالی۔ ایسے میں اس کے بعد کیے گئے سروے میں کئی حقائق سامنے آئے ہیں جو قابل غور ہیں۔
ایک تازہ سروے آیا ہے۔ ووٹ لہر نامی ایجنسی کا یہ سروے این ڈی اے کی نیندیں اڑا سکتا ہے۔ درحقیقت اس سروے میں بہار میں این ڈی اے حکومت بالخصوص نتیش کمار کو لے کر ایک مضبوط ‘اینٹی انکمبنسی لہر’ دکھائی دے رہی ہے۔ اس سروے میں 52 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین کے نمونے لیے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ 70 فیصد نمونے دیہی لوگوں اور 30 فیصد شہری لوگوں سے بولے گئے ہیں۔ سروے ایجنسی نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ سی ایم نتیش کمار اور این ڈی اے حکومت کے کام سے کتنے خوش ہیں؟ اس سوال کے جواب میں 48 فیصد لوگوں نے نتیش حکومت کے کام سے ناخوشی کا اظہار کیا۔ 4 فیصد لوگوں نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے یا کہہ نہیں سکتے۔ 20 فیصد لوگ غیر جانبدار تھے اور 27 فیصد لوگوں نے سی ایم نتیش کی بھرپور حمایت کی۔
سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ شہری اور دیہی نوجوان ووٹرز سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجودہ حکومت کے کام کاج سے انتہائی ناخوش ہیں۔ 48 فیصد شہری اور دیہی ووٹرز موجودہ حکومت کے کام کاج سے خوش نہیں ہیں۔ 18 سے 34 سال کی عمر کے 55 فیصد لوگوں نے نتیش حکومت سے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس سروے کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ ناخوشی دیہی اور نوجوان ووٹروں میں سب سے زیادہ ہے۔ سروے میں شامل 70 فیصد دیہی اور 30 فیصد شہری عوام میں سے 48 فیصد شہری اور دیہی لوگ موجودہ حکومت سے خوش نہیں
**نوجوانوں (جی زیڈ) کی ناراضگی
18 سے 34 سال کی عمر کے 55 فیصد لوگوں نے نتیش حکومت سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ یہ اعداد و شمار این ڈی اے کے لیے بہت خطرناک ہے۔ نوجوان ووٹر کسی بھی الیکشن کا نتیجہ بدل سکتے ہیں اور ان کی ناراضگی کا براہ راست تعلق روزگار، تعلیم اور مستقبل کی امیدوں سے ہے۔ دیہی رائے دہندگان کی ناراضگی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی اسکیمیں زمینی سطح پر اتنا اثر نہیں ڈال پائی ہیں جتنا کہ دعویٰ کیا جارہا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کے لیے بجلی، پانی، سڑکیں اور صحت کی سہولیات جیسے مسائل اب بھی اہم ہیں۔
**این ڈی اے کی واپسی مشکل ؟
اس سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ این ڈی اے کی اقتدار میں واپسی کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ نتیش کمار کی سیاست کی بنیاد ‘گڈ گورننس’ یعنی اچھی حکومت کا ماڈل رہی ہے۔ لیکن 48 فیصد لوگوں کی ناخوشی ظاہر کرتی ہے کہ یہ ماڈل اب عوام میں کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ امن و امان، روزگار اور کرپشن جیسے مسائل عوام کی ترجیح بن چکے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیاں، خاص طور پر آر جے ڈی کے سی ایم تیجسوی یادو کا سامنا ہے، روزگار، مہنگائی اور جرائم کے معاملے پر حکومت کو لگاتار گھیر رہے ہیں۔ یہ سروے ان کے الزامات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اپوزیشن اس ناخوشی کا فائدہ اٹھا کر حکومت کے خلاف ایک مضبوط ماحول بنا سکتی ہے۔ اگر ناخوش ووٹر متحد ہو کر اپوزیشن کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ این ڈی اے کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر یہ ووٹ مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہوتے ہیں تو این ڈی اے کو بھی بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔








