امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کو "بے سود” قرار دیا ہے۔روبیو نے جمعرات کو "فوکس نیوز” ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ بات بعض لوگوں کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے، لیکن اس کی کوئی اہمیت نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا "پہلی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ملک فلسطینی ریاست قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور فلسطینی ریاست تب تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل اسے تسلیم نہ کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس ریاست کی جگہ کا تعین نہیں کر سکتے، نہ ہی یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسے کون چلائے گا۔ تیسری بات، میرے خیال میں یہ سب بے فائدہ ہے۔”انھوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "حماس کے لیے انعام” ہے اور اس سے اسے غزہ میں جنگ بندی قبول نہ کرنے پر مزید حوصلہ ملے گا۔
ٹرمپ "ناراض”یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کے رہنماؤں پر "ناراضی اور مخالفت” کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتائی۔لیویٹ نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایسا کوئی اقدام "حماس کو انعام دینے” کے مترادف ہے، حالانکہ "یہی تنظیم غزہ میں جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔”
اقوام متحدہ کے193 میں سے 144 ممالک کی حمایت
اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً 144 فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، جن میں دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ روس، چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔
تاہم یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں سے صرف چند نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نومبر 2012 میں فلسطین کے موقف کو "اکائی” سے بڑھا کر "غیر رکن ریاست” کا درجہ دے کر اسے عملی طور پر ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ یہ بات خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتائی۔








