نئی دہلی: بہار کی معروف شخصیت آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق چیئرمین اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے حالیہ امارت شرعیہ تنازع کے دوران دعویٰ کیا کہ اب وہی منتخب امیر شریعت بہار واڑیسہ جھارکھنڈ ہیں اور مولانا ولی احمد فیصل رحمانی کو بورڈ آف ٹرسٹیز کی بڑی تعداد نے معزول کردیا ہے ،انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے اسی کے ساتھ انہوں نے امارت میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگی اور خرد برد کا سنگین الزام بھی لگایا ـ
مولانا قاسمی نے یہ باتیں بہار کے ایک یو ٹیوب چینل کو انٹرویو دیتے ہویے کہیں
انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ جو کچھ (بقول ان کے) تبدیلی عمل میں آئی ہے یہ کام بیس مارچ کو ہی ہونا تھا مگر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پٹنہ میں مجوزہ دھرنے کو دیکھتے ہویے اس (آپریشن ) کام کو ملتوی کردیا گیا ـاس سوال کے جواب میں کہ رمضان ختم ہونے اور عید گزر جانے کا انتظار کیوں نہیں کیا انہوں نے بتایا کہ امارت میں سب سے زیادہ چندہ رمضان میں آتا ہے ہمیں اندیشہ تھا کہ یہ چندہ کہیں خرد برد نہ ہو جائے ـ اور یہ کہیں اور جمع نہ ہورہا ہو اس کو دیکھنا ضروری تھا ـ ۔ٹائمنگ کے سوال انیوں نے اعتراف کیا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی ہے لیکن اس لیے جلدی کرنی پڑی جو وہ بتا چکے ہیں
مولانا قاسمی نے ان الزامات کا اعادہ کیا کہ مولانا فیصل رحمانی نہ تو عالم دین ہیں اور نہ ہی بھارتی شہری بلکہ وہ امریکی شہری ہیں ،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی بنیاد پر مسلم ہرسنل لا بورڈ نے بھی ان کی رکنیت منسوخ کردی اور سکریٹری کے عہدے سے ہٹادیا جبکہ کہا یہ جاتا ہے کہ مولانا رحمانی نے خود استعفیٰ دیا تھا اور ان کی شہریت سے متعلق حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ایک لیگل کمیٹی بنادی ہے جس کی رپورٹ کی بنیاد پر آگے فیصلہ کیا جائے گا
یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دن امارت شرعیہ اور مسلم کمیونٹی کے لیے آزمائش بھرے ہوں گے امارت شرعیہ میں قیادت کو لے کر ایک بار پھر پولیس کا اہم رول ہوسکتا ہے جس کے نتیجہ میں مزید ناخوشگوار واقعات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ـیادرہے مولانا قاسمی امارت شرعیہ کے بیس سال ناظم رہ چکے ہیں ـ