تجزیہ: ڈاکٹر شفیعُ الزماں
(صدر شعبۂ علم سیاسیات)
شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ
مہاراجہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر سنجیو کمار کے عہدۂ شیخ الجامعہ کا ایک سال مکمل ہونا یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک اہم اور حوصلہ افزا سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پروفیسر سنجیو کمار نے 15 جنوری 2025 کو مہاراجہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ کے وائس چانسلر کے طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ اس کے بعد گزرنے والا یہ ایک سال محض وقت کی تکمیل نہیں رہا، بلکہ یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی، ثقافتی اور سماجی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا مضبوط گواہ ثابت ہوا۔
پروفیسر سنجیو کمار اپنے خوش مزاج اور شگفتہ مزاج شخصیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس، دوراندیش اور متحرک ماہرِ تعلیم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا منفرد طرزِ کار یونیورسٹی کی دفتری اور تعلیمی ثقافت میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔ وہ مکالمہ، باہمی ہم آہنگی اور نظم و ضبط—تینوں کو یکساں اہمیت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پورے یونیورسٹی خاندان میں ایک مثبت اور خوشگوار ماحول پروان چڑھا ہے۔

ان کی قیادت میں یونیورسٹی کیمپس میں مسرت اور جوش و خروش کی فضا دیکھنے کو ملی۔ اساتذہ، غیر تدریسی عملہ اور طلبہ—سبھی میں کام کے تئیں جذبہ اور ادارے پر فخر کا احساس پیدا ہوا۔ یہ ماحول یونیورسٹی کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک زندہ و متحرک علمی برادری کے طور پر قائم کرتا ہے۔ تعلیمی معیار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کانفرنسوں، سمیناروں اور خطبات کے ذریعے کیمپس میں مسلسل علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔ ان تقریبات سے نہ صرف اساتذہ کے علمی افق کو وسعت ملی بلکہ طلبہ کو بھی اعلیٰ تعلیم کے وسیع تناظر سے جڑنے کا موقع حاصل ہوا۔ یوں یونیورسٹی کا کیمپس فکر و نظر، مباحثے اور فکری سرگرمیوں کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا۔
پروفیسر سنجیو کمار کے دورِ کار کی ایک اہم اور نمایاں کامیابی پانچ سالہ لا (ایل۔ایل۔بی) کورس کی منظوری اور اس کی باقاعدہ تدریس کا آغاز ہے۔ یہ کامیابی یونیورسٹی کی تعلیمی ساکھ کو مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں خطے کے طلبہ کو معیاری قانونی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔
اسی تسلسل میں یونیورسٹی میں قانونی امداد مرکز (لیگل ایڈ سینٹر) کا قیام عمل میں لایا گیا، جو سماجی انصاف اور قانونی بیداری کے فروغ کی سمت ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔ اس موقع پر قانونی موضوعات پر خطبات کا بھی اہتمام کیا گیا، جن کے ذریعے طلبہ اور عام شہریوں کو ان کے حقوق، فرائض اور انصاف تک رسائی کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ یہ پہل یونیورسٹی کی سماجی ذمہ داری اور عملی قانونی تعلیم کو مضبوط بنانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوئی۔
کھیل کے میدان میں بھی یونیورسٹی نے قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔ قومی سطح پر مختلف کھیلوں میں تمغے حاصل کرنا طلبہ کی صلاحیت، محنت اور نظم و ضبط کا واضح ثبوت ہے۔ وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر سنجیو کمار نے کھیلوں کو طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا اور اس شعبے کو بھرپور حوصلہ افزائی فراہم کی۔
7 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والا کانووکیشن اجلاس یونیورسٹی کے لیے ایک نہایت ہی قابلِ فخر لمحہ ثابت ہوا۔ یہ تقریب وقار، نظم و ضبط اور جوش و خروش کے ساتھ کامیابی سے انجام پائی۔ طلبہ کے لیے یہ موقع ان کی تعلیمی محنت کی باضابطہ توثیق کا تھا، جبکہ یونیورسٹی کے لیے اپنی علمی و انتظامی کامیابیوں کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم ہوا۔
پروفیسر سنجیو کمار کی رہنمائی میں یونیورسٹی کیمپس میں روورز/رینجرز یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس اقدام سے طلبہ میں نظم و ضبط، قائدانہ صلاحیتوں اور سماجی ذمہ داری کے احساس کو فروغ ملا۔ اسی سلسلے میں پہلا بیسک روورز/رینجرز لیڈر کورس بھی منعقد کیا گیا، جو یونیورسٹی کے لیے ایک نئی، مضبوط اور دور رس اثرات رکھنے والی پہل ثابت ہوئی۔
سماجی ذمہ داریوں کے تئیں یونیورسٹی کے عزم کی ترجمانی کرتے ہوئے قومی خدمت اسکیم (NSS) کے تحت باپو بازار کا انعقاد کیا گیا، جس کے ذریعے ضرورت مند اور غریب افراد میں کپڑے اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں۔ یہ اقدام یونیورسٹی اور سماج کے درمیان انسانی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنا۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کی تعلیم سے ہٹ کر سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا گیا، جن کے ذریعے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ثقافتی، سماجی اور تخلیقی سرگرمیوں نے کیمپس کی زندگی کو مزید متحرک اور حوصلہ افزا بنا دیا۔
روورز/رینجرز سرگرمیوں کو مستقل بنیادوں پر فروغ دینے اور تجربات کے تبادلے کے مقصد سے ’روورز/رینجرز اَنو بھوتی‘ کے عنوان سے ایک مجلہ شائع کیا گیا۔ یہ مجلہ طلبہ کی سرگرمیوں، تجربات اور خیالات کے اظہار کا ایک مضبوط اور مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آیا۔تعلیمی شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے پی ایچ ڈی داخلہ امتحان کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس کے ذریعے تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو ایک منصفانہ، منظم اور قابلِ اعتماد موقع میسر آیا۔ امتحانی نظام میں وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کو یقینی بناتے ہوئے سمسٹر امتحانات کا بروقت آغاز کیا گیا اور نقل سے پاک امتحانات کے انعقاد کے عزم کو پوری دیانت داری کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹی کی تعلیمی ساکھ میں اضافہ ہوا بلکہ طلبہ کے اعتماد میں بھی نمایاں بہتری آئی۔
ماحولیات کے تحفظ کی سمت یونیورسٹی کیمپس میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی، جس کے ذریعے سرسبزی اور ماحولیاتی تحفظ کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام آئندہ نسلوں کے لیے صاف اور سرسبز ماحول کے تئیں یونیورسٹی کی وابستگی کا واضح اظہار ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کے فروغ کے لیے باسکٹ بال کورٹ کی تعمیر عمل میں لائی گئی، جس سے طلبہ کو بہتر تربیت اور مشق کے مواقع حاصل ہوئے۔ یہ اقدامات یونیورسٹی کے ہمہ جہت اور متوازن ترقی کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وائس چانسلر پروفیسر سنجیو کمار کا یہ ایک سال دوراندیش قیادت، نظم و ضبط، تعلیمی فعالیت، سماجی شمولیت اور انسانی اقدار کا ایک مضبوط نمونہ ثابت ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں مہاراجہ سہیل دیو یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی اعتبار سے مستحکم ہوئی ہے بلکہ ایک متحرک، منظم اور حوصلہ افزا اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ یقین مزید پختہ ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پروفیسر سنجیو کمار کی رہنمائی میں یونیورسٹی ترقی کی نئی بلندیوں کو ضرور چھوئے گی۔










