امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر دستخط کرے، وہیں اب ایران نے بھی اس پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے مسعود نے اشارہ دیا کہ تہران امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایران نے ٹرمپ کے انتباہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے میزائل مکمل طور پر تیار ہیں اور ایسے کسی بھی حملے کو برداشت کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے متعلقہ جگہوں پر ہمہ وقتی صلاحیت رکھنے والی میزائلوں تیار کر لی ہے۔ ایران نے کہا کہ ہمارے میزائل تیار ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر پیزیشکیان نے کہا کہ سپریم لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ براہ راست بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔ ہم بات چیت سے بچتے نہیں ہیں۔ بلکہ، یہ ان کی دھوکہ دھڑی ہے جس نے اب تک ہمارے لیے مسئلہ پیدا کیا ہے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کہ وہ فیصلہ کرنے کے بارے میں یقین ثابت سکتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ یہ ٹھیک ہو گا۔