ہری دوار:اتراکھنڈ حکومت سرکاری زمین کو تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم کے تحت مسلسل غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس مہم کے تحت انتظامیہ نے ہریدوار ضلع کے پیران کلیار تھانہ علاقے میں ایک مزار کو بلڈوزر سے منہدم کردیا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مزار غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی۔
ای ٹی وی بھارت کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ یہ مزار محکمہ آبپاشی کی زمین پر بنایا گیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حالات خراب نہ ہوں۔ہری دوار کے انتظامی اہلکاروں نے پیران کلیار میں کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کے اطراف میں قائم غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس سے جائے وقوعہ پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مزار اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی کی زمین پر بنایا گیا تھا۔ اگرچہ محکمہ نے پہلے بھی تجاوزات کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے تھے جن میں ملوث افراد کو مقررہ مدت کے اندر تجاوزات ہٹانے کا کہا گیا تھا لیکن ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بالآخر انتظامیہ نے بلڈوزر سے مزار کو مسمار کر دیا۔
اس سے قبل، ہریدوار ضلع میں، انتظامیہ اور محکمہ جنگلات نے سرکاری زمین پر بنائے گئے مذہبی ڈھانچے کو منہدم کیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ غیرقانونی طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ کچھ عناصر لینڈ جہاد کے ذریعے خالی زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے لینڈ جہاد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 10,000 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی کو تجاوزات سے آزاد کرایا ہے۔ دیو بھومی کی ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے لیے یہ مہم پورے عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ فوٹو ای ٹی وی بھارت








