امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ اشاعت میں خبر دی ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب عارضی طور پر غزہ کی تقسیم کے منصوبے غور کر رہے ہیں، جس میں کچھ علاقے اسرائیل کے کنٹرول میں اور دیگر حماس کے تحت ہوں گے، تاکہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے سامنے رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
ایک امریکی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ غزہ کو تقسیم کرنے کے تجویز کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت چند دنوں میں پیش کی جائے گی۔
اخبار نے تصدیق کی کہ عرب ثالثوں نے غزہ کے علاقے کو تقسیم کرنے کے خیال کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ امریکہ حماس کے علاقوں میں اس کے ہتھیار ختم کیے بغیر دوبارہ تعمیر کا آغاز نہیں چاہتا، بلکہ عارضی حل کے طور پر اسرائیل کے کنٹرول والے علاقوں میں آغاز کرنا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل بھیجے گئے اپنے نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کیا، تاکہ اسرائیلی میڈیا کی اصطلاح میں وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو پر براہ راست نگرانی کو مضبوط کیا جا سکے اور حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
ان دنوں امریکی نائب صدر جی ڈی وینس اسرائیل کا دورہ جاری رکھے ہوئے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ جمعرات کو وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان سے ملیں گے، جبکہ صدر کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسرائیل سے روانہ ہو چکے ہیں۔ یروشلم میں نتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں وینس نے کہا کہ وہ امن کے بارے میں بات کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کہ تقریباً ایک ہفتہ پہلے شروع ہونے والا معاہدہ جاری رہے اور کامیابی کے ساتھ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں منتقل ہونے کے امکانات پر غور کرنے آئے ہیں۔
جبکہ اسرائیل میں امریکی ورکنگ گروپ معاہدے کو آگے بڑھانے میں سرگرم ہے، فلسطینی نائب صدر محمود عباس کے نمائندے حسین شیخ، جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹر ماجد فرج کے ہمراہ، اسی مقصد کے لیے قاہرہ پہنچ گئےـدونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام اور تعاون جاری رکھنا ضروری ہے، تاکہ ایک منصفانہ اور جامع امن حاصل کیا جا سکے، جو قبضے کے خاتمے اور جون 1967 کی سرحدوں میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور یہ سب بین الاقوامی قانونی فیصلوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔









