تم کہتے ہو
اس دھرتی کے
اس بیٹے کو
مجھ سے زیادہ پیار ملا ہے
دل پر رکھ کر ہاتھ کہو
کیا اس کے کپڑے
میرے جیسے
پھٹے پرانے بوسیدہ بیکار نہیں ہے
آزادی کی تین رنگوں والی پریوں نے
کیا اس کو مجھ سے زیادہ برتن بخشے ہیں
اس کی بھی تو تھالی ڈوئی اور پتیلی کا موہوم سا رشتہ
نازک نازک ٹوٹا ٹوٹا ہی رہتا ہے
اس کے بھی تو چھلنی جیسے گھر کے اندر موسم آ کر
باری باری
بے شرمی سے کھلے عام جھانکا کرتے ہیں
ایسے ہی کچھ اور بھی رشتے
ہم دونوں کے جیون کی ساری پونجی ہیں
تم کہتے ہو
اس نے مجھ کو بھائی کہنا چھوڑ دیا ہے
ہاں مجھ کو معلوم ہے تم نے
اس سے بھی یہ بات کہی ہے
میں نے اس کو بھائی کہنا چھوڑ دیا ہے
تم جھوٹے ہو








