اردو
हिन्दी
فروری 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاجی طلباء کے لگے پوسٹر، فون نمبر سے لے کر پتے تک سب کچھ لیک  کردیا, پرائیویسی سے کھلواڑ

12 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
88
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی (آر کے بیورو)
ملک کیی معروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ’17 مظاہرین کی شناخت جاری کرنے والے نوٹس چسپاں کرنے‘ (جامعہ نوٹس پوسٹرز تنازعہ) کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کیمپس میں ابال آگیا ہے  ـ طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ پر ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔  یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ‘نوٹس’ میں 17 طلباء کے نام، ان کی تصاویر، شناختی کارڈ، پتے، فون نمبر، ای میل اور کورس کے ساتھ یہ معلومات شامل ہیں کہ وہ کس ‘بائیں بازو کی تنظیم’ سے وابستہ ہیں۔طلباء کا کہنا ہے کہ کیمپس میں مختلف مقامات پر ان کی ذاتی معلومات کے ساتھ نوٹس لگا کر انہیں ‘بدنام اور شرمندہ’ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  ان میں سے بہت سے طلباء نے دعویٰ کیا کہ انہیں 12 فروری کو چیف پراکٹر کے دفتر سے معطلی کا خط بھی ملا تھا۔
•••معاملہ کیا ہے؟
طلباء کا الزام ہے کہ 14 فروری کو یونیورسٹی میں نوٹس لگایا گیا تھا۔  اس کا عنوان تھا – ’10.02.2025 کو شام 5 بجے سینٹرل کینٹین JMI میں بغیر کسی اجازت کے احتجاج کرنے والے طلباء کی فہرست۔‘ بعد میں جب اس حوالے سے احتجاج شروع ہوا تو مبینہ طور پر نوٹس کو ہٹا دیا گیا۔دراصل جس احتجاج کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ 10 فروری سے جاری تھا۔  اس احتجاج کی وجہ یونیورسٹی کی جانب سے دو پی ایچ ڈی سکالرز کے خلاف مبینہ کارروائی کا ردعمل بتایا گیا۔  ان پی ایچ ڈی سکالرز پر الزام تھا کہ انہوں نے 16 دسمبر کو یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔  ایسے میں ان طلباء کو بھی معطل کر دیا گیا۔


جامعہ کی ایک طالبہ انجلی نے دی پرنٹ کو بتایا،
” 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے بعد سے، طلباء ہر سال 15 دسمبر کو طلباء کے خلاف تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔  لیکن اس سال طلبہ کو بتایا گیا کہ اس دن یونیورسٹی دیکھ بھال کے لیے بند رہے گی۔  اس لیے 16 دسمبر کو احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔  لیکن اس کے فوراً بعد چار طلبہ کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیج دیا گیا۔  تاہم جب انہوں نے نوٹس کا جواب دیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا جواب تسلی بخش نہیں تھا۔”
•••14 طلبہ زیر حراست
10 فروری سے جاری احتجاج نے 13 فروری کو کروٹ لی۔  ان دنوں 14 طلباء کو حراست میں لیا گیا تھا۔  الزام یہ تھا کہ ان طلباء نے ‘سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا’ اور ‘امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی’۔  تاہم بعد میں انہیں  رہا کر دیا گیا۔ساتھ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان مظاہرین کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔  دی ہندو کے مطابق سات طالب علموں کو ’غیر قانونی مظاہروں‘ میں حصہ لینے پر معطل کر دیا
•••نوٹس چسپاں کرنے سےطلبا برہم
احتجاج کرنے والے طلبہ کی شناخت جاری کرتے ہوئے ‘نوٹس چسپاں کرنے’ کو لے کر کئی سوالات اٹھ رہے تھے۔  ایم آئی ایم پارٹی کے دہلی سربراہ ڈاکٹر شعیب جامعی، ، سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، سماجی کارکن شبنم ہاشمی اور کئی دوسرے لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔  ان لوگوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ساتھ ہی کئی طلبہ نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا ، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک طالبہ نے دی ہندو کو بتایا کہ اسے صبح سے ہی کئی نمبروں سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔  اس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ اور نشانہ بن رہی ہے۔  طلباء تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے کہا کہ یونیورسٹی نے طلباء کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا  گیا ہے ہے۔  AISA نے پوچھا کہ اگر ان طلباء پر حملہ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟
واضح ہو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔  علاوہ ازیں میڈیا کے مختلف اداروں نے کہا ہے کہ سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملا  ہے۔  جیسے ہی کوئی جواب آئے گا ہم اپ ڈیٹ کریں گے۔
(میڈیا رپورٹس کے ان پٹ کے ساتھ)

ٹیگ: Jamia Millia Islamialeaked privacyphone numberprotestersprotesting studentsviolated

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Hate Speech Sarma Supreme Court Petition
خبریں

ہیٹ اسپیچ:4 آسامی افراد نے سرما کے خلاف ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی جانچ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

11 فروری
Vande Mataram Mandatory Govt Order
خبریں

اب اسکولوں اور سرکاری پروگراموں میں جن گن سے پہلے وندے ماترم لازمی، کھڑا بھی ہونا ہوگا: سرکار کا فرمان

11 فروری
Shafiqur Rahman Jamaat Journey
خبریں

شفیق الرحمن: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر، کبھی تھے کمیونزم کے اسیر

11 فروری
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN