غزہ کے معاملے پر متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ اتوار کو فلسطینی وزیر اعظم کے قاہرہ پہنچنے کا امکان ہے۔ حماس کا وفد گزشتہ دو دن سے ایک جامع تجویز پر بات چیت کر رہا ہے اور ذرائع کے مطابق اس نے بڑی حد تک اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے بدلے دو مرحلوں میں قیدیوں کے مکمل تبادلے کی بات شامل ہے۔ حماس ایک طویل مدتی جنگ بندی پر متفق ہو گی اور عبوری مدت میں اپنے عسکری ونگ کی سرگرمیاں منجمد کرے گی۔
تجویز میں غزہ میں اسلحے کی تیاری اور اسمگلنگ روکنے، حماس کی طرف سے اسلحہ دوبارہ استعمال نہ کرنے کی ضمانت اور "غزہ کے ہتھیار” کے مستقبل پر حتمی فارمولے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ حماس رہنماؤں کی علامتی جلا وطنی بھی اس تجویز کا حصہ ہے۔مزید یہ کہ غزہ میں عبوری مدت کے لیے بین الاقوامی اور عرب افواج تعینات کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسرائیل کا انخلا بتدریج "عرب – امریکی” نگرانی میں ہو گا اور یہ اسلحے اور غزہ کی حکمرانی پر حتمی معاہدے سے مشروط ہو گا۔ معاہدے کی ضمانت مصر، ترکی اور دیگر ثالثی دیں گے … اور عبوری مدت میں اسلحے کے دوبارہ استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔
یہ مصری کوششیں اس وقت ہو رہی ہیں جب اسرائیلی فوج تقریباً 75 فی صد غزہ پر قابض ہے اور مکمل قبضے کی تیاری کر رہی ہے۔ بدھ کو فوج نے اعلان کیا کہ چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے غزہ پر حملے کے مرکزی تصور کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج شہر میں "داخلے کی کارروائیاں” کر رہی ہیں جو کئی دن سے شدید بم باری کی زد میں ہے۔
اسی دوران اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوج "غزہ کو مکمل طور پر مٹا دینے” کی صلاحیت رکھتی ہے۔غزہ کے شہری سات اکتوبر 2023 سے شدید بم باری اور محاصرے میں ہیں، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق درجنوں بچے بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اب تک اس جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 61 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے









