امریکہ میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر ردعمل جاری ہے اور لاس اینجلس میں چوتھے روز بھی احتجاج کی شدت برقرار رہی، جب کہ مظاہروں کا دائرہ منگل کو ریاست ٹیکساس کے شہروں ڈلاس اور آسٹن تک جا پہنچا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہروں کا دائرہ مزیدپھیل رہا ہے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کیلیفورنیا کی سب سے بڑی شہری آبادی والے شہر لاس اینجلس میں امریکی بحریہ کے تقریباً 700 میرینز تعینات کیے جا چکے ہیں۔
لاس اینجلس پولیس کے سربراہ جم میکڈونل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "واضح ہم آہنگی کے بغیر میرینز کی تعیناتی پولیس کے لیے ایک بڑا عملی اور انتظامی چیلنج ہے”۔
•••مزید دو ہزار نیشنل گارڈ اہلکار تعینات
اس سے قبل پیر کو امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مزید دو ہزار نیشنل گارڈ اہلکار لاس اینجلس بھیجنے کا حکم دیا ہے تاکہ جاری مظاہروں پر قابو پایا جا سکے۔پینٹاگان کے ترجمان شان بارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری پیغام میں کہا کہ "صدر کے حکم پر وزارت دفاع کیلیفورنیا میں دو ہزار اضافی نیشنل گارڈ اہلکاروں کو ریاستی خدمات کے لیے تعینات کر رہی ہے تاکہ امیگریشن و کسٹمز کے نفاذ اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی جا سکے”۔
•••ٹاسک فورس 51″ کی تفصیلات
ادھر امریکہ کی شمالی فوجی کمانڈ نے بتایا ہے کہ لاس اینجلس میں جاری اس کارروائی کو "ٹاسک فورس 51” کا نام دیا گیا ہے، جس میں تقریباً 2100 نیشنل گارڈ اور 700 فعال میرینز شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو حالات پر قابو پانے، ہجوم کی نظم و نسق اور طاقت کے استعمال کے اصولوں پر تربیت دی گئی ہے۔
•••گورنر کیلیفورنیا کا شدید ردعمل
دوسری جانب ریاست کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرینز کی تعیناتی ایک "آمرانہ سوچ رکھنے والے صدر کے بیمار تخیل” کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے "ایکس” پر لکھاکہ "امریکی میرینز نے مختلف جنگوں میں جمہوریت کے دفاع کے لیے شجاعت کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔ انہیں اپنے ہی شہریوں کے خلاف امریکی سرزمین پر تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ رویہ امریکہ مخالف ہے”۔
ریاست کیلیفورنیا نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان بھی کیا ہے، جسے شہر لاس اینجلس کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کی سرزمین پر فعال فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ایک غیر معمولی اقدام ہے، جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔








