علمی، اَدَبی و ثقافتی شہر پونے میں ایک نہایت شاندار، پُر وَقَار اور یادگار جشنِ استقبالیہ و تہنیتی مُشاعرہ منعقد ہُوا جو نامور شاعِر ادیب و صحافی ڈاکٹر محسن جلگانوی (حیدر آباد) کو حکومت تلنگانہ اور تلنگانہ اُردو( اکیڈمی) کی جانب سے قومی سطح کے سب سے بڑے مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ کی حصولیابی کے سلسلے میں ملنے والے اعزاز کے سلسلے میں ترتیب دیا گیا تھا اس مبارک موقع پر ان کی اَدَبی سماجی اور تہذیبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایک یادگاری ایوارڈ (اے سی ایف سی) بھی پیش کیا گیا جس پر حاضرینِ محفل نے پُرجوش تالیوں سے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا مہمانِ اعزازی( گیسٹ آف آنر) ڈاکٹر محسن جلگانوی کے بعد مہمانِ خُصوصی (چیف گیسٹ) افسر دکنی صاحب کا نام نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ لیا گیا جن کی موجودگی نے اس اَدَبی تقریب کے وَقَار اور اہمیت میں مزید اضافہ کیا اس با وَقَار محفل میں شہر کی معزز شخصیات اہلِ قلم اساتذۂ کرام دانشوران اور اَدَب سے گہری وابستگی رکھنے والے شائقین کی بڑی تعداد شریک ہوئی مُشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر و ادیب اسلم چشتی نے فرمائی جن کی سنجیدہ متوازن اور با وَقَار قیادت نے پوری تقریب کو ایک مضبوط اَدَبی سمت عطا کی جبکہ نظامت کے فرائض مشہور صحافی نامور شاعِر سیّد حلیم زیدی نے نہایت خوش اُسلوبی برجستگی اور شائستہ انداز میں انجام دیے جس سے پروگرام کی رَوَانی اور حُسن میں اِضافہ ہُوا – تمام شعرائے کرام اور مہمانان کا استقبال شال اور گلدستوں سے کیا گیا – تقریب کا آغاز محسن رضائی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہُوا جس کے بعد ناظمِ مشاعرہ نے مہمانانِ گرامی کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور مُشاعرے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی صدرِ مشاعرہ نے اپنے صدارتی خطاب میں اُردو زبان و اَدَب کی ترویج تہذیبی اقدار کے تحفُّظ اور اس طرح کی اَدَبی محفلوں کے تسلسل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اس موقع پر جیت سہگل نے ڈاکٹر محسن جلگانوی کی ہندی اُردو شعری تصنیف پر بھرپور سلیقے سے اظہارِ خیال کیا- رفیق قاضی نے ڈاکٹر محسن جلگانوی کا تفصیلی تعارف پیش کیا – محسن ضیائی نے ڈاکٹر محسن جلگانوی کی شاعری کا جائزہ پیش کیا -ڈاکٹر محسن جلگانوی نے اپنے تاثرات کچھ اس انداز میں پیش کیے پونے شہر اپنے حسنِ ترتیب تہذیبی وَقَار اور اہلِ شہر کے خلوص سے ایسا دل نشیں تاثر قائم کرتا ہے جو مدتّوں یاد رہتا ہے۔ یہاں سرگرمِ عمل تنظیمیں عزم دیانت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر شہر کی اَدَبی فضاء اور اُردو کی ترقّی و خوشحالی میں سنگِ میل کا کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی یہ مسلسل کاوشیں بلاشبہ تحسین و تقلید کے لائق ہیں۔ معزز مہمانان نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مہمانِ اعزازی (گیسٹ آف آنر) ڈاکٹر محسن جلگانوی کی ہمہ جہت خدمات کو سراہا اور منتظمین کی انتھک محنت اور حسنِ انتظام کی دل کھول کر تعریف کی محفل کے دوران سامعین کی دلچسپی اور سنجیدگی قابلِ دید رہی اور پورا ماحول اَدَب دوستی، سماجی یکجہتی اور مشترکہ تہذیبی وَقَار کا آئینہ دار نظر آیا آخر میں رفیق قاضی نے مہمانِ اعزازی، مہمانِ خصوصی تمام معززین شعراء اور حاضرینِ محفل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا یہ یادگار تہنیتی مُشاعرہ اے سی ایف سی (اسلم چشتی فرینڈ سرکل پونے) اور اُردو ساہتیہ پریشد پونے کے زیرِ اہتمام سویوگ لہر سوسائٹی کلب ہاؤس کونڈوا، 10 جنوری (2026) بروز ہفتہ شام 6:30 پونے میں منعقد ہُوا جو اپنی شاندار کامیابی ،با وَقَار صدارت، بھرپور شرکت اور اعلیٰ اَدَبی معیار کے باعث دیر تک یاد رکھا جائے گا آخر میں مشاعرے کے شعری حصّے کے تحت شریک شعراء ڈاکٹر محسن جلگانوی ، افسر دکنی ، اسلم چشتی ، حسام الدین شعلہ، رفیق قاضی، ضیاء باغپتی ، سیّد حلیم زیدی، امتیاز خان، تنویر احمد تنویر شولاپوری، ڈاکٹر طوبی چودھری ، حمیدہ حکیم، میڈی کرسٹی ، دانش جعفری اور ارحم مرزا نے اپنا کلام پیش کیا – جنہوں نے محفل کو چار چاند لگا دیے زیادہ تر اشعار پر سامعین کی جانب سے بھرپور داد و تحسین پیش کی گئی اور اشعار کی پیش کش کے لیے مخصوص جگہ اسٹیج پر مقرر کی گئی تھی جہاں شعراء نے نہایت پُراعتماد اور دلنشیں انداز میں اپنا کلام سنایا۔
مُشاعرے میں پڑھے گئے قارئین کے ذوق کے لیے اشعار پیش کیے جا رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں –
اُڑان بھرنا تو پھر آسمان تک جانا
یہی جنون تو سر کو اُٹھائے رکھتا ہے
( ڈاکٹر محسن جلگانوی)
چاند نکلا ہے شام سے پہلے
کون آیا ہے شام سے پہلے
(افسر دکنی )
جہالتوں کے اندھیروں کا قتل کر ڈالا
زمین بیچ کے بچّے پڑھا لیے مَیں نے
(اسلم چشتی )
کچھ حال گلستاں کا اچھّا تو نہیں ہے
ہر شاخ پہ اُلّو کہیں بیٹھا تو نہیں ہے
( حسام الدین شعلہ)
کچھ اعتبار ہی نہیں امن و امان پر
جیتے ہیں ہم نہ جانے یہاں کس گمان پر
( رفیق قاضی)
مَیں مہکتی ہوا کا جھونکا ہوں
ساری دنیا ہے یہ وطن میرا
( سیّد حلیم زیدی )
بتا دے کیا تجھے حاصل ہُوا ہے زندگانی سے
سبق شاید کوئی ہم کو ملے تیری کہانی سے
( ضیاء باغپتی)
مانا کہ ہو خفا نہ کسی کو دِکھاؤ پر
محفل میں آ کے بیٹھو نہ بیٹھو تم آؤ پر
( امتیاز خان )
ٹوکتا ہے ہر بُرائی پر مُجھے اندر سے وہ
ہے کوئی تو جو ہمیشہ ساتھ چلتا ہے مرے
( تنویر احمد تنویر)
بھوک سے چور بدن خون میں لتھڑے بچّے
کیا لُبھائے گا انہیں کوئی کھلونے والا
(ڈاکٹرطوبیٰ چودھری)
سب کی ہستی کو بنایا ہے حمیدہ رب نے
وہ نہ کہتا جو اگر کُن تو بشر کیا کرتے
(حمیدہ حکیم )
میسر ہی نہیں دیدار اس دیوار کو تیرا
لگائی ہے تری تصویرجس دیوار پر مَیں نے
( میڈی کرسٹی )
اب جدائی کی قبا ایسے ہی سی جائے گی
آج اک اور غزل تم پہ کہی جائے گی
( دانش جعفری )
پھر جی گئے وہی جو گرفتار مر گئے
ہم بھی اسیرِ ضبط میں مختار مر گئے
( مرزا ارحم )
یہ مُشاعرہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور خوبصورت اَدَبی پروگرام تھا جو رات 11 بجے باوقار انداز میں اختتام پذیر ہُوا ۔ اس محفلِ سُخن نے نہ صرف شعر و اَدَب سے مَحبّت کرنے والوں کو یکجا کیا بلکہ اُردو اَدَب کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا۔ نامور شعراء کے معیاری کلام نے سامعین کو فکری اور جمالیاتی مسرّت عطا کی۔ اشعار کی گہرائی اور اثر آفرینی نے محفل کو سنجیدگی اور وَقَار بخشا۔ سامعین پورے انہماک کے ساتھ اشعار سے لُطف اندوز ہوتے رہے۔ اس مُشاعرے نے اَدَب اور تہذیب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اختتام کے بعد حاضرین نے پروگرام کو بے حد سراہا۔ سامعین کی اکثریت نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے معیاری مُشاعرے منعقد کیے جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آج بھی اَدَب سے وابستگی زندہ ہے۔ بلاشبہ یہ مُشاعرہ ایک یادگار اور کامیاب ادبی کاوش تھا۔
منجانب : اراکینِ ( اے سی ایف سی پونے اور اُردو ساہتیہ پریشد پونے )










