ملک میں بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹ چوری کا معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کیا راہل اب کی ایم کے جنم دن پر ہائیڈروجن بم پھوڑڑنے جارہے ہیں یہ اشارے مل رہے ہیں -یاد رہےکانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگایا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اس حوالے سے ایک پریزنٹیشن بھی شیئر کیا تھا، جس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا۔ اب اس ایپی سوڈ میں کانگریس لیڈر راہول گاندھی اپنے ووٹ چوری کے الزامات کے حوالے سے ہائیڈروجن بم پھٹنے والے ہیں، جس کا ذکر وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔
راہل گاندھی کے ہائیڈروجن بم کے بارے میں خبر ہے کہ وہ اسے 17 ستمبر کو یعنی وزیر اعظم نریندر مودی کے دن پھٹا سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف الیکشن کمیشن کو نشانہ بنائیں گے بلکہ وزیر اعظم مودی پر بھی براہ راست حملہ کریں گے۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی ہریانہ اور وارانسی میں مبینہ ووٹ چوری کا انکشاف کر سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ یہ اعداد و شمار پی سی کے ذریعے ملک کے سامنے پیش کریں گے۔ راہل نے شروع سے ہی بی جے پی اور آر ایس ایس پر ووٹ چوری کے کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ایسے میں ان کا دوسرا انکشاف کتنا مضبوط ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔راہل گاندھی نے اپنے رائے بریلی دورے کے دوران ہائیڈروجن بم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ زیادہ مشتعل نہ ہوں کیونکہ جب ہائیڈروجن بم آئے گا تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ ووٹ چوری کے الزام کو دہراتے ہوئے راہل نے مزید کہا کہ ملک میں ووٹ چوری کرکے حکومتیں بن رہی ہیں۔ اس کا ثبوت وہ جلد ضمانت کے ساتھ عوام کو دینے جا رہے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں گزشتہ کئی سالوں سے 75 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کا رجحان رہا ہے، پارٹی کے اس قاعدے کو دیکھ کر کئی لیڈروں نے گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ بہت سے لوگ خود کو سیاست سے دور کر چکے ہیں۔ اب کانگریس اس کو لے کر پی ایم مودی کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم 17 ستمبر کو 75 سال کے ہو جائیں گے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ایم ایم جوشی، اڈوانی اور مودی کے لیے الگ الگ اصول کیوں ہیں جو سب کو ریٹائر کر دیتے ہیں؟ کیا وہ طاقت سے اتنا پیار کرتا ہے؟








