ہے جو یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے۔ تجارتی نقطۂ نظر سے یہ مہینہ "کوانٹٹی” (Quantity) کے بجائے "کوالٹی” (Quality) کی ترویج کا ہونا چاہیے۔ آج کی مارکیٹ میں صحت بخش اشیاء (Health Foods) کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب صارف بیدار ہو رہا ہے۔ لوگ اب صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ بدن کی توانائی برقرار رکھنے کے لیے سائنسی اور طبی بنیادوں پر تیار کردہ مصنوعات تلاش کر رہے ہیں۔ یہ تاجروں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ حلال اور طیب (پاکیزہ و صحت بخش) اشیاء کو فروغ دے کر اپنی تجارت کو عصری تقاضوں اور شرعی احکام کے مطابق ڈھالیں۔
الغرض، رمضان کی آمد ایک ہمہ گیر انقلاب ہے جو ہماری روح، بدن اور معاش کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ طبی حکمت ہمیں ضبطِ نفس اور اعتدال سکھاتی ہے، تو تجارتی وسعت ہمیں سخاوت اور معاشی استحکام کا درس دیتی ہے۔ اگر ہم سحر و افطار میں نبوی سادگی کو حرزِ جان بنا لیں اور تجارت میں دیانت کو اپنا شعار، تو یہ مہینہ صرف انفرادی صحت کی بہتری کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی توانا اور معاشی طور پر مستحکم سوسائٹی کی بنیاد بنے گا جہاں ہر شخص دوسرے کے دکھ درد کا شریک ہو۔ یہ وہ مبارک دورانیہ ہے جس میں "پیٹ کا کم کھانا” اور "ہاتھ کا زیادہ دینا” ہی اصل کامیابی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں اپنی صحت کی حفاظت، حلال رزق کی وسعت اور ایمان کی حلاوت سے مالا مال فرمائے، اور ہم اس کے فیوض و برکات کو سمیٹنے والے بن سکیں۔ آمین۔







