غیر ملکی یونیورسٹیوں سے میڈیکل کی ڈگریوں والے ڈاکٹروں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، کیونکہ دہلی پولیس نے بدھ (19 نومبر، 2025) کو دارالحکومت میں ہیلتھ کئیر سینٹرزسے ان کی تفصیلات طلب کیں ـ
دی ہندو The hindu کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پولیس ڈاکٹروں کے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ روابط کی تحقیقات کر رہی ہے جس کے بعد لال قلعہ بم دھماکہ کیس میں مشتبہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں چار ڈاکٹروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ سرکاری اور پرائیوٹ ہیلتھ کئیرس دونوں سے کہا گیا ہے کہ وہ میڈیکل اسٹاف کے بارے میں جامع معلومات فراہم کریں جنہوں نے بیرون ملک قابلیت حاصل کی، خاص طور پر جنھوں نے پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور چین سے ڈگریاں لی ہیں مختلف ہسپتالوں کے ہیلتھ کیئر سٹاف نے دی ہندو The Hindu کو بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں سے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ "دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے ساتھ ممکنہ روابط کی تحقیقات کے علاوہ، پولیس بعض اداروں کے اندر بدعنوانی اور فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ ابھی تک کسی بھی رہائشی ڈاکٹر کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے،” دہلی کے ایک نجی اسپتال کے ایک رہائشی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا۔
آئی ایم اے نے داغدار ڈاکٹرس کو نکالا:ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے ڈاکٹر شاہین سعید کو ’ملک دشمن سرگرمیوں‘ میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد تنظیم سے نکال دیا ہے۔شاہین سعید آئی ایم اے کی کانپور برانچ کی تاحیات رکن رہ چکی تھی۔نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) گھنے بم دھماکہ کیس میں مشتبہ افراد – ڈاکٹر مظفر احمد، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر، ڈاکٹر مزمل شکیل اور ڈاکٹر شاہین سعید کے نام نیشنل میڈیکل رجسٹر سے نکال دیے ہیں۔








