(ہندی روزنامہ’ نیاانڈیا’ کا اداریہ)
بنگلہ دیش میں مسئلہ اب صرف بھارت مخالف انتہا پسندوں کے سرگرم ہونے کا نہیں رہا،بلکہ اب بھارت کی مخالف پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ مختلف گروپ بھارت پر بنگلہ دیش کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا الزام لگا رہے ہیں۔
بھارت اوربنگلہ دیش کے رشتوں میں پھنسے کانٹے کی چبھن میں شدید ہوتی جا رہی ہے، جس سے بھارت کے سیکورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کی گرما گرمی کے درمیان سیاسی گروپس مزید بھارت مخالف ظاہر ہونے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بھارت مخالف عناصر نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی کو گرما گرم موضوع بنا رکھا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ جولائی کا اوکیو احتجاج ہے جس کا منصوبہ ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن میں ایک تنظیم نے کیا تھا۔
ایک اور تنظیم نے کھل کر کہا ہے کہ وہ بھارت مخالف انتہا پسند تنظیموں کو تحفظ فراہم کرے گی ۔ ان واقعات کی روشنی میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے بدھ کو بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کو طلب کیا۔ ہندوستان نے باضابطہ احتجاج درج کرایا، اور کہا کہ ڈھاکہ میں ہندوستانی مشن اور ویزا سینٹر کو سیکورٹی فراہم کرنا بنگلہ دیش حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بنیاد پرست عناصر کی طرف سے پھیلائے گئے جھوٹے بیانیے کی روشنی میں، بھارت نے کہا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے نہ تو واقعات کی مکمل تحقیقات کی ہیں اور نہ ہی بھارت کے ساتھ کوئی ٹھوس ثبوت شیئر کیے ہیں۔ فی الحال ڈھاکہ میں ویزا سینٹر بند کر دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر یہ سختی ایک درست قدم ہے، لیکن اس سے سنگین مسئلہ حل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ بنگلہ دیش اب صرف بھارت مخالف انتہا پسند عناصر کی موجودگی کا نہیں رہا۔ بلکہ اب بھارت کی مخالفت کے لیے سیاسی گروہوں میں اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔ یہ گروپ بھارت پر بنگلہ دیش کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں۔ جب سے شیخ حسینہ کو کئی مقدمات میں سخت سزائیں سنائی گئی ہیں، ماحول مزید خراب ہو گیا ہے۔ اس ماحول میں دوستانہ بات چیت بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھارت کے طویل مدتی مفادات کے لیے اچھی صورتحال نہیں ہے۔ مزید برآں، سرحد پر سیکورٹی چیلنجز کی سنگینی کو مزید بگاڑنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہوگا۔









