بنگلورو: آر ایس ایس نے بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندوؤں پر مظالم کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ قرارداد بنگلورو میں منعقد آر ایس ایس کی آل انڈیا نمائندہ اسمبلی میں منظور کی گئی۔ اس میں اسلامی بنیاد پرست عناصر کی جانب سے مسلسل منصوبہ بند تشدد، ناانصافی اور جبر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ قرارداد میں ہندو سماج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

آر ایس ایس کی اکھل بھارتیہ پرتیندھی سبھا نے قرارداد میں بنگلہ دیش کی ہندو کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتی کمیونٹیزکے خلاف (مبینہ) اسلامی بنیاد پرست عناصر کی جانب سے مسلسل منظم تشدد، ناانصافی اور ظلم و ستم پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ واضح طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ ہے۔آر ایس ایس نے اپنی قرارداد میں کچھ بین الاقوامی طاقتوں پر ہندوستان کے پڑوس میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔پرتندھی سبھاسوچ رکھنے والے طبقوں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین پر زور دیتی ہے کہ وہ بھارت مخالف ماحول اور پاکستان اور ‘ڈیپ اسٹیٹ’ کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور ان کو اجاگر کریں۔
••بھارت حکومت سے کیا اپیل کی؟
آر ایس ایس نے اپنی قرارداد میں کہا کہ ہندوستانی حکومت نے بنگلہ دیش کی ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے تحفظ کی ضرورت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ مسئلہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ساتھ ساتھ کئی بین الاقوامی فورمز پر بھی اٹھایا ہے۔ سبھا نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری رکھے اور بنگلہ دیش کی ہندو برادری کے تحفظ، وقار اور آرام کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔