سنبھل گزشتہ سال سے مسلسل بحث میں ہے۔ نومبر 2024 میں سنبھل کی شاہی جامع مسجد میں سروے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ اس تشدد میں پانچ افراد مارے گئے۔
26 مارچ کو سنبھل کے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) وندنا مشرا نے کہا تھا کہ سڑک پر نماز کی اجازت نہ دینے کے علاوہ چھتوں پر نماز کی اجازت دینے سے پہلے تحقیقات کی جائیں گی۔ بغیر چیکنگ کے مسجد کے ارد گرد نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس پر سنبھل کے ایم پی ضیاء الرحمن برق نے کہا تھا کہ ’’لوگوں کو چھت پر نماز پڑھنے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چھت کوئی سرکاری جگہ نہیں ہے، یہ ایک شخص کی خاص جگہ ہے۔‘‘ سنبھل شہر میں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں عیدگاہ اور شاہی جامع مسجد میں نماز عید پرامن طریقے سے ادا کی گئی۔سنبھل کے مسلمان پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں بے خوف خطر گھروں سے نکل کر عیدگاہ نماز دوگانۂ اداس کرنے پہنچی یوپی تک چینل کے نامہ نگار نے گراؤ مڈ رپورٹنگ کے دوران بتایا کہ عیدگاہ میں تقریبا ایک لاکھ مسلمانوں نے نماز عید اداکی ان میں بوڑھے ,بچے بھی تھے انہوں نے انتظامیہ کی تعریف کی کہ اس نے اچھا بندوبست کیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا فضا سے ڈرون کے ذریعہ نگرانی کی جارہی تھی اس دوران سنبھل کے ایم پی ضیاء الرحمن برق بھی نماز ادا کرنے پہنچے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک اور ریاست میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، جب سڑکیں بند کر کے ہندو تہوار منائے جا سکتے ہیں تو ہماری 10 منٹ کی
نماز پر اعتراض کیوں؟
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی بل کے خلاف کالی پٹیاں باندھ کر نماز ادا کرنے کی اپیل کا سنبھل میں کچھ اثر ہوا۔سنبھل کے ایس پی کرشنا کمار بشنوئی نے نماز کے بعد کہا، "عید کی نماز پرامن اور محفوظ طریقے سے ادا کی گئی۔ پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈرون کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔”