بی جے پی کے فائربرانڈ لیڈر اور سابق ایم ایل اے سنگیت سوم نے ایک بارپھر مسلمانوں اور مدارس کے خلاف زہر افشانی کی اور متنازع بیان دیا ہے ـ سوم نے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے جہاد سے متعلق بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنگیت سوم نے نفرت آمیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ (مولانا ) مدنی جیسے لوگ بیمار ذہنیت والی بیمار کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک دن سناتنی سڑکوں پر آ جائیں اور ان مولاناوں کا پیچھا کریں اور انہیں ماریں۔ وہ انہیں مارتے پیٹتے پاکستان لے جائیں اور پھر وہاں ان کے گھروں میں گھس جائیں۔ ۔لائیو ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق سنگیت سوم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ اب بھی نہیں سمجھ رہے ہیں ، اس لیے اس پر تبصرہ کرنا بیکار ہے۔ یہ لوگ دیش کا آئین اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ جب بھی آئین کی بات ہوتی ہے تو وہ شریعت کی بات کرنے لگتے ہیں۔ ان کی چار بیویاں اور 21 بچے ہوں گے۔ وہ اس وقت اس پر بات نہیں کریں گے، لیکن وہ جہاد کو جائز قرار دیں گے۔ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے کہ ملک میں جہاد اور دہشت گردی کس حد تک جاری ہے۔
انہوں نے سخت لب ولہجہ میں کہا کہ کہ ایسے لوگ بھارت میں کھائیں گے اور پاکستان کے گیت گائیں گے۔ سنگیت سوم نے پرانا بیانیہ دہراتے ہوئے کہا کہ مدارس سے دہشت گرد نکلتے ہیں، ملک بھر میں مدارس بند ہونے چاہئیں۔ زیادہ تر دہشت گرد دیوبند جیسے مدارس سے نکلتے ہیں۔ دراندازوں کی نشاندہی کرکے انہیں باہر پھینکنا جانا ہی مناسب ہے۔ مولانا مدنی اسی ادارے سے آتے ہیں جہاں سے دہشت گرد نکلتے ہیں۔ ایس آئی آر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دراندازوں کے ووٹ ضرور کاٹے جائیں گے۔ سنگیت سوم نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ ہندوستان میں محفوظ ہیں۔ لو جہاد اور لینڈ جہاد کے بعد اب ووٹ جہاد ہو رہا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مولانا مدنی جیسے لوگ ان جہادوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔








