نئی دہلی: کیرالہ کے ترواننت پورم میں ایک 26 سالہ سافٹ ویئر انجینئر آنندو اجی نے مبینہ طور پر اپنے بچپن میں بار بار جنسی زیادتی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کے بعد خودکشی کر لی۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، ان کی لاش جمعرات (9 اکتوبر) کو تھامپنور علاقے میں سیاحوں کی رہائش گاہ سے ملی۔
بتایا جاتا ہے کہ اپنی موت سے قبل آنندو اجی نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ بچپن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ارکان نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔
انڈین ایکسپریس نے ایک نامعلوم پولیس افسر کے حوالے سے بتایا کہ غیر فطری موت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔
خط میں کیا لکھا تھا؟اجی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’میں ایک شخص اور ایک تنظیم کے علاوہ کسی سے ناراض نہیں ہوں۔‘‘اس نے مزید کہا، "یہ تنظیم آر ایس ایس ہے، جس سے میرے والد (جو بہت اچھے آدمی تھے) نے مجھے متعارف کرایا۔ یہیں سے مجھے اس تنظیم اور اس شخص سے زندگی بھر صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔”اس نے الزام لگایا کہ تین سے چار سال کی عمر تک اسے "NM” نامی شخص نے بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خط میں، اجی نے مبینہ طور پر کہا کہ یہ شخص، آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا رکن، اس کا پڑوسی ہے، اور "اس کا خاندان اسے رشتہ دار سمجھتا ہے۔”آر ایس ایس حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی تنظیم ہے۔ اخبار نے رپورٹ کیا کہ ایس سدرشن، "صوبائی پرچارک” کو کالز اور پیغامات کیے گئے تاکہ اس پر آر ایس ایس کا ردعمل معلوم کرسکیں، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔آنندو اجی کے سات صفحات کے خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوتوا تنظیم کے دیگر ارکان نے سنگھ کے زیر اہتمام کیمپوں کے دوران اجی کا جنسی اور جسمانی استحصال کیا۔
اجی نے بتایا کہ بچپن میں جنسی استحصال کی وجہ سے وہ ذہنی صحت کے شدید عارضے کا شکار ہے۔ خط میں لکھا تھا، "میں جانتا ہوں کہ میں اس کا واحد شکار نہیں ہوں۔ بہت سے دوسرے بچے بھی اس کے ہاتھوں اور آر ایس ایس کے کیمپوں میں بدسلوکی کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور کونسلنگ کی جائے۔”انہوں نے خط میں لکھا کہ والدین اپنے بچوں کو جامع جنسی تعلیم فراہم کریں۔دریں اثنا، اتوار کو کانگریس لیڈر اور وائناڈ کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے آر ایس ایس سے الزامات کی تحقیقات کرنے پر زور دیا اور کہا کہ تنظیم کو اپنی غلطی کو قبول کرنا چاہیے۔









